خطابات مریم (جلد دوم) — Page 339
خطابات مریم 339 آپ نے تو سچے مسلمان کی تعریف یوں بیان فرمائی ہے۔مسلمان وہ ہے جو اپنے تمام وجود کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کیلئے وقف کر دے اور سپر د کر دے اور اعتقادی اور عملی طور پر اس کا مقصود اور غرض اللہ تعالیٰ کی ہی رضا اور خوشنودی ہو۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 133) خطابات آپ کی سیرت کا دوسرا عظیم پہلو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی عشق ہے اس میدان میں جو آپ کا مقام تھا وہ آپ کے اس شعر سے واضح ہو کر سامنے آجاتا ہے فرماتے ہیں :۔بعد از خدا بعشق محمد محمرم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم یعنی میں خدا تعالیٰ کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں مخمور ہوں اگر میرا یہ عشق کسی کی نظر میں کفر ہے تو خدا کی قسم میں بہت بڑا کا فر ہوں۔محبوب کے لئے غیرت ایک فطری امر ہے حضرت اقدس کی بعثت کا زمانہ وہ ہے جب کہ پادریوں نے اسلام کے خلاف ایک خطر ناک جنگ شروع کی ہوئی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ زندگی پر اعتراضات ، امہات المومنین پر دل آزارانه اعتراضات، اسلام پر اعتراضات ان کا روز کا کام تھا اور اس کا اگر دفاع کیا اور مقابلہ کیا تو صرف اور صرف حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے۔آپ فرماتے ہیں:۔د میں حلفاً کہتا ہوں کہ جب کوئی ایسی کتاب نظر پڑتی ہے تو دنیا اور مافیھا ایک مکھی کے برابر نظر نہیں آتی میں پوچھتا ہوں کہ جس کو وقت پر جوش نہیں آتا کیا وہ مسلمان ٹھہر سکتا ہے کسی کے باپ کو بُرا بھلا کہا جائے تو وہ مرنے مارنے کو تیار ہو جاتا ہے لیکن اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی جائیں تو ان کی رگ حمیت میں جنبش بھی نہ آوے اور پر واہ بھی نہ کریں یہ کیا ایمان ہے؟ پھر کس منہ سے مرکر خدا کے پاس جائیں گے“۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 142) ایک اور موقعہ پر آپ نے فرمایا:۔میں تو سچ کہتا ہوں اللہ تعالیٰ گواہ ہے کہ مجھے اپنی دشمنی اور اپنی توہین یا عزت اور