خطابات مریم (جلد دوم) — Page 338
خطابات مریم 338 خطابات ساتھ ایسا پیار کروں کہ جو اولاد کا حق ہوتا ہے تا کہ دنیا پر ظاہر ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگرد تک اطفال کے مقام کو پہنچ سکتے ہیں اور چونکہ تو میرے محبوب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی خدمت میں رات دن مستغرق اور اس کی محبت میں محو ہے اس لئے میں تجھے اپنے اس محبوب کے روحانی فرزند کی حیثیت میں اپنی لازوال محبت اور اپنی دائگی معیت کے تمغہ سے نوازتا ہوں“۔( تقریر سیرت طیبہ صفحہ 18،17) جس سے محبت ہو اس کی محبت پر ناز بھی ہوتا ہے اور اس کے لئے غیرت بھی ہوتی ہے۔1904 ء یا پانچ میں مولوی کرم دین والے مقدمہ میں یہ اطلاع ملی کہ ہند و مجسٹریٹ کی نیت ٹھیک نہیں اور وہ آپ کو قید میں ڈالنے کی تدابیر اختیار کر رہا ہے آپ لیٹے ہوئے تھے یہ سنتے ہی اُٹھ کر بیٹھ گئے اور بڑے جلال سے فرمایا کہ:۔وہ خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال کر تو دیکھے“۔آپ نے اپنے ان اشعار میں بھی اس جذ بہ کا اظہار فرمایا ہے۔جو خدا کا اُسے للکارنا اچھا نہیں ہے ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روبہ زار و نزار نیز یہ کہ:۔کہتا ہے تو بنده عالی جناب ہے مجھ سے لڑو اگر تمہیں لڑنے کی تاب ہے اللہ تعالیٰ پر توکل کے متعلق ایک اور حوالہ پیش کرتی ہوں۔ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں جو تو کل کی بات چل پڑی جس پر آپ نے فرمایا :۔میں اپنے قلب کی عجیب کیفیت پاتا ہوں جیسے سخت جس ہوتا اور گرمی کمال شدت کو پہنچ جاتی ہے تو لوگ وثوق سے امید کرتے ہیں کہ اب بارش ہو گی۔ایسا ہی جب میں اپنی صندوقچی کو خالی دیکھتا ہوں تو مجھے خدا کے فضل پر یقین واثق ہوتا ہے کہ اب یہ بھرے گی اور ایسا ہی ہوتا ہے“۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 216 نیا ایڈیشن )