خطابات مریم (جلد دوم) — Page 340
خطابات مریم 340 خطابات تعظیم کا تو کچھ بھی خیال نہیں ہے میرے لئے جو امر سخت ناگوار ہے اور ملال خاطر کا موجب ہمیشہ رہا ہے وہ یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے کامل اور پاک انسان کی توہین کی جاتی ہے۔(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 482) پنڈت لیکھرام والا واقعہ شاید ہی کوئی احمدی ہو جس نے نہ سنا ہو پنڈت لیکھر ام اسلام کا بہت بڑا دشمن تھا جس کی زبان اسلام اور مقدس بانی اسلام کی مخالفت میں قینچی کی طرح چلتی تھی۔حضرت مسیح موعود کسی سفر میں سٹیشن پر گاڑی کا انتظار فرما رہے تھے اتفاقاً پنڈت لیکھرام بھی وہاں جا پہنچا اور یہ معلوم کر کے کہ آپ بھی وہاں تشریف فرما ہیں آپ کو آ کر سلام کہا آپ وضو فرما رہے تھے آپ نے جواب نہ دیا۔دوسری دفعہ پھر سلام کیا آپ نے پھر بھی جواب نہ دیا۔لیکھر ام مایوس ہو کر لوٹ گیا کسی نے اس خیال سے کہ شاید آپ نے سنانہیں کہا لیکھر ام آیا تھا اور سلام کرتا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑی غیرت کے ساتھ فرمایا کہ:۔” ہمارے آقا کو تو گالیاں دیتا ہے اور ہمیں سلام کرتا ہے۔(سیرت المہدی ) اسی طرح ایک اور واقعہ ہے لاہور میں آریوں نے ایک جلسہ منعقد کیا اور اس میں سب مذاہب کو شرکت کی دعوت دی اور وعدہ کیا کہ جلسہ میں کوئی خلاف تہذیب بات نہ ہوگی اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولانا نور الدین صاحب کو بہت سے احمدیوں کے ساتھ بھجوایا اور ایک مضمون بھی لکھ کر بھیجا۔جب آریوں کے نمائندہ کے مضمون پڑھنے کی باری آئی تو سب وعدے بھلا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایسا گند اُچھالا کہ خدا کی پناہ۔جب اس واقعہ کی اطلاع حضرت مسیح موعود کو ہوئی اور جلسہ میں شامل ہونے والے لوگ واپس آئے تو آپ بہت ناراض ہوئے اور فرمایا کہ جس مجلس میں ہمارے رسول اللہ کو بُرا بھلا کہا گیا تم اس مجلس میں بیٹھے ہی کیوں رہے واپس کیوں نہ آگئے پھر قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی۔إِذَا سَمِعْتُمْ أَيْتِ اللهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِةٍ (النساء : 141) یعنی اے مومنو! جب تم سنو کہ خدا کی آیات کا دل آزارا نہ رنگ میں کفر کیا جاتا اور اُن پر ہنسی اُڑائی جاتی ہے تو تم ایسی مجلس سے فوراً اُٹھ جایا کرو تا وقتیکہ لوگ کسی مہذبانہ انداز گفتگو کو