خطابات مریم (جلد دوم) — Page 305
خطابات مریم 305 خطابات اور جو بدگمانی اسلام کی نسبت پھیلائی جاتی ہے اس کا اگر کوئی تو ڑ ہو سکتا ہے تو وہ عورتوں ہی کے ذریعہ سے ہو سکتا ہے۔(الازھار لذوات الخمار صفحہ 52) اس آیت میں تین اہم باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔(1) يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ (۲) يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ (۳) يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ یعنی مسلمانوں میں ان تین صفات کا پایا جانا بے حد ضروری ہے۔وہ نیکی کی طرف بلائیں، صداقت کی اطلاع دنیا کو دیں جو نعمت آپ کے پاس ہے اس کا علم ان تک پہنچانے کی کوشش کریں جن کے پاس نہیں ہے۔خیر کی طرف وہی دوسروں کو دعوت دے سکتا ہے جو خود مجسم خیر ہو۔جس طرح سچ کے مقابل جھوٹ کا لفظ ہے۔اسی طرح عربی میں خیر کے مقابلہ کا لفظ شریا ضرر ہے یعنی تمہارے وجود سے کسی کو نہ دکھ پہنچے نہ کوئی شر اور بُرائی تم میں پائی جائے نہ تمہارے وجود سے کسی کو نقصان پہنچے نہ اس کے حقوق کی حق تلفی ہو۔تم خود خیر بن جاؤ اور مجسم خیر بن کر جو سوائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کے بننا مشکل ہے ، دوسروں کو خیر بننے کی دعوت دو۔میں نے ایک دفعہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ سے سنا آپ نے فرمایا کہ حضرت مصلح موعود نے جو اپنی اولاد کے لئے دعائیں کیں ان میں سے سب سے مکمل۔دعا یہ ہے۔اس میں ہزاروں دعائیں آ جاتی ہیں کہ الہی خیر ہی دیکھیں نگا ہیں۔ہماری نگاہیں دوسروں میں عیوب ڈھونڈنے کی بجائے اپنے میں عیب اور نقص ڈھونڈ نے کی عادی ہوں گی تو اپنی برائی کی طرف بھی متوجہ ہوں گی اور اپنے کو ساری دنیا کیلئے۔بنانے کی کوشش کریں گی۔يَدْعُون إلى الخير میں کو اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ آپ کو جو نعمت اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے آپ خاموش کیوں ہیں کیوں نہیں دنیا کو بتا ئیں اتنی عظیم الشان نعمت آپ کو ملی ہے۔آؤ تمہیں بھی بتاؤں جس طرح حضرت اقدس موعود آخر الزمان نے فرمایا تھا کہ:۔میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں۔کس دف سے