خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 280 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 280

خطابات مریم 280 خطابات حضرت اقدس کے خلاف مخالفت کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا کہ پیشگوئی جھوٹی نکلی۔حضرت اماں جان نے بڑے حوصلہ سے سارے اعتراضات اور شور و غوغا کو سنا مگر اپنے ایمان میں ذرا جنبش نہیں ہوئی۔یہ بچی پانچ سال زندہ رہی اور جب یہ بچی وفات پا گئی تو آپ نے کسی گھبراہٹ کا اظہار نہ کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہیں۔حضرت اماں جان کے بطن سے پھر بشیر اول پیدا ہوئے جن کی پیدائش 7 اگست 1887ء کو ہوئی۔ابتداء میں حضرت اقدس نے بھی یہی سمجھا کہ موعود بیٹا یہی ہے۔لیکن خدا تعالیٰ کی پیشگوئی میں اس بچہ کے متعلق الفاظ تھے ” خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے یہ بچہ 4 نومبر 1888ء کو وفات پا گیا اور اس کی وفات کے ساتھ پھر مخالفت کا طوفان اُٹھا۔حتی کہ حضرت مولوی عبد اللہ صاحب سنوری کا خیال تھا کہ ایسا زلزلہ عامۃ الناس کے لئے نہ اس سے قبل کہیں آیا تھا نہ اس کے بعد آیا۔حضرت اماں جان نے اس کی وفات پر بھی راضی بہ رضا ہونے کا نمونہ دکھایا آپ نے جب دیکھا کہ بچہ کے بچنے کی کوئی صورت نہیں تو پھر فرمایا کہ میں اپنی نماز کیوں قضا کروں چنانچہ آپ نے وضو کر کے نماز شروع کر دی اور نہایت اطمینان کے ساتھ نماز ادا کر کے دریافت فرمایا کہ بچہ کا کیا حال ہے؟ جواب میں بتایا گیا کہ بچہ فوت ہو گیا تو آپ۔۔۔پڑھ کر خاموش ہو گئیں۔آپ نے جس ایمان اور صبر کا نمونہ دکھایا تھا اس کا انعام بھی اللہ تعالیٰ نے عطا کیا۔اللہ تعالیٰ نے 12 جنوری 1889ء کو وہ لڑکا عطا فرمایا جس کے متعلق بتایا گیا تھا کہ دین کا چراغ ہوگا۔اولوالعزم ہو گا دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا اور پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت اماں جان کو اتنی لمبی عمر عطا فرمائی کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کی اس پیشگوئی کو ظہور میں آتے دیکھا حضرت مصلح موعود کا اپنے مصلح موعود ا ہونے کے دعویٰ کا اعلان سنا۔کتنی عظیم تھی وہ خاتون جس کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کے مامور کیلئے چنا اور کتنی عظیم تھی وہ خاتون جس کے بطن سے مصلح موعود پیدا ہوا اور کتنی عظیم تھی وہ خاتون جس کی گود میں آپ کے موعود پوتے ( یعنی حضرت خلیفہ اسیح الثالث ) نے پرورش پائی۔قیامت تک آنے والی قومیں اس عظیم الشان خاتون پر سلام بھیجیں گی آپ کی ساری اولا دہی مبشر او لا دتھی۔ہر بچہ کے متعلق بشارتیں دی گئیں اور وہ پوری ہوئیں۔