خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 281 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 281

خطابات مریم 281 خطابات صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب حضرت اماں جان کے بطن سے آٹھویں بچے تھے وو آپ کی پیدائش 1899 ء میں ہوئی اور آپ 1907 ء میں وفات پاگئے۔اس وفات پر حضرت اقدس اور حضرت اماں جان نے انتہائی صبر اور رضا بالقضاء کا نمونہ دکھایا حضرت اقدس کو الہام ہوا تھا۔” ہے تو بھاری مگر خدائی امتحان کو قبول کر“ جب مبارک احمد کی وفات ہوئی تو حضرت اماں جان کی زبان سے پہلا کلمہ یہی نکلا۔اور کہا میں خدا کی تقدیر پر راضی ہوں۔آپ کے صبر پر اللہ تعالیٰ بھی راضی ہوا اور حضرت اقدس کو الہام ہوا۔” خدا خوش ہو گیا ( تذکرہ صفحہ 619) حضرت اقدس نے یہ الہام جب حضرت اماں جان کو سنایا تو آپ نے فرمایا۔” مجھے اس الہام سے اسقدر خوشی ہوئی ہے کہ دو ہزار مبارک احمد بھی مرجا تا تو میں پرواہ نہ کرتی “۔مبارک احمد کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس کو الہاماً بتایا : " انا نبشرك بغلام اسمه یحیی ( تذکرہ صفحہ 626) ، “ ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جسکا نام بیچی ہو گا۔اسی طرح الہام ہوا۔إِنَّا نُبَشِّرك بغلامٍ حَلِيمٍ يَنْزِلُ مَنْزِلُ الْمُبَارَک ( تذکره صفحه 622) ہم تجھے ایک حلیم لڑکے کی خوشخبری دیتے ہیں وہ مبارک احمد کی شبیہ ہو گا جب حضرت مرزا ناصر احمد صاحب پیدا ہوئے تو حضرت اماں جان نے اس پیشگوئی کا مصداق انہیں سمجھا اور اپنا چوتھا بیٹا سمجھ کر ہی پرورش کی اور تربیت کی۔بچپن میں آپ انہیں کبھی بیٹی کہہ کر بھی بلاتی تھیں اور یہ کہا کرتی تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے مبارک کی جگہ یہ مجھے دیا ہے۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے بھی ایک خواب میں دیکھا تھا جسے یوں بیان فرمایا :۔مجھے مبارک احمد کی وفات کے تین روز بعد ہی خواب آیا کہ مبارک احمد تیز تیز قدموں سے چلا آ رہا ہے اور دونوں ہاتھوں پر ایک بچہ اُٹھائے ہوئے اس نے آکر میری گود میں وہ بچہ ڈال دیا جولڑ کا ہے اور کہا ” لو آپا یہ میرا بدلہ ہے۔(الفضل 12 دسمبر 1968ء)