خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 279 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 279

خطابات مریم 279 1 حضرت اقدس کی ذات پر اور آپ کے دعوئی پر ایمان۔2 شوہر کی سچی محبت۔3 دین حق سے سچا پیار۔4 دعاؤں پر ایمان اور دین کی عزت کیلئے ہر تکلیف کو برداشت کرنا۔حضرت مولا نا عبدالکریم صاحب تحریر فرماتے ہیں۔خطابات میں دیکھتا ہوں کہ حضرت اقدس کو آپ کی بی بی صاحبہ صدق دل سے۔۔۔مانتی ہیں اور آپ کی تبشیر ات سے خوش ہوتی اور انذارات سے ڈرتی ہیں۔غرض اس برگزیدہ ساتھی کو 66 برگزیدہ خدا سے سچا تعلق اور پورا اتفاق ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس کو مخاطب کر کے فرمایا : تیری نسل بہت ہوگی اور میں تیری ذریت کو بہت بڑھاؤں گا اور برکت دوں گا مگر بعض ان میں سے کم عمری میں فوت بھی ہوں گے اور تیری نسل کثرت سے ملکوں میں پھیل جائے گی۔(اشتہار 22 / مارچ 1886ء۔تذکرہ صفحہ 11) پھر اولاد میں سے ایک اولوالعزم بیٹے کی بشارت بھی دی۔اس بیٹے کی پیدائش کے نشان کو قدرت ، رحمت ، قربت ، فضل اور احسان کا نشان قرار دیا۔فتح اور ظفر کی کلید کہا اور اس نشان کی غرض یہ بتائی کہ تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجے سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آئیں اور تادین حق کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:۔”سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا ایک زکی غلام تجھے ملے گا۔وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت ونسل ہوگا“۔( تذکره صفحه 109) جن دنوں یہ پیشگوئی کی گئی حضرت سیدہ نصرت جہاں حمل کی حالت میں تھیں مئی 1886ء میں آپ کے ہاں ایک بچی پیدا ہوئی جسکا نام ” عصمت“ رکھا گیا۔لڑکی کا پیدا ہونا تھا کہ