خطابات مریم (جلد دوم) — Page 270
خطابات مریم 270 خطابات لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے اکیسویں سالانہ اجتماع کے موقع پر افتتاحی خطاب 1981ء آپ نے اپنے خطاب کے آغاز میں فرمایا :۔الحمد لله الحمد لله ثم الحمد للہ اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان اور۔۔۔۔۔( قدرت ثانیہ ) کی برکات کے نتیجہ میں آج لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کے اکیسویں سالانہ اجتماع کا آغاز ہورہا ہے لجنہ اماءاللہ کے قیام پر 59 سال پورے ہو رہے ہیں جو ایک خاصہ لمبا عرصہ ہے۔ایک طویل سفر طے کر کے لجنہ اماءاللہ اس مقام تک پہنچی ہے لیکن اب بھی ہم میں بہت سی خامیاں ہیں کمزوریاں ہیں جن کا جائزہ لینا اور انہیں دور کرنے کے پروگرام بنانا ہمارے اجتماع کے پروگراموں کا ایک حصہ ہونا چاہئے۔جب تک ہمارے پیش نظر ہمارا مقصد حیات نہیں رہتا اور اپنی منزل مقصود کو ہم اپنے سامنے نہیں رکھتے نہ ہم اپنی تربیت کر سکتی ہیں نہ دوسروں کی۔آپ نے فرمایا: قرآن مجید نے اس مقصد حیات کو قُل اِنّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَ مماتي لله رب العلمین (الانعام: (163) کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ میری نماز میری قربانیاں میری زندگی اور میری موت سب رب العالمین کے لئے ہی ہے۔یہی وہ مقصدِ حیات ہے جو ہراحمدی کے پیش نظر رہنا چاہئے۔آپ نے حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ کی کتب کے متعد دحوالے پڑھ کر سنائے جن میں حضور نے اپنی بعثت کی غرض و غایت پر روشنی ڈالی ہے اور بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچا اور حقیقی تعلق قائم کرنا میری بعثت کی غرض ہے اور یہ تعلق حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بچے دل سے پیروی کرنے اور آپ کے اُسوہ حسنہ کو اختیار کئے بغیر قائم نہیں ہوسکتا۔