خطابات مریم (جلد دوم) — Page 268
خطابات مریم 268 خطابات ضرور سکھانا ہے کیونکہ قرآن کی تعلیم اور قرآن کی اشاعت کیلئے۔۔۔حضرت اقدس ) تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور عنایت سے جماعت احمدیہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قدرت ثانیہ ) کا قرب عطا کیا ہے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں ، بچوں کی تربیت کریں اسلام کے احکام سکھائیں۔یہ پردے کی طرف جو بے تو جہگی ہے یہ محض نقالی ہے۔میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ آج امریکہ کی اور دوسرے ممالک کی عورتیں برقع پہن کر یہاں آئیں تو آج جو آپ میں سے برقع اُتار چکی ہیں دوبارہ برقع سلالیں گی کیونکہ آپ سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک کی عورتیں برقع پہنے ہوئے قرآن پڑھتی ہوئی نظر آئیں گی پھر آپ کو احساس ہوگا کہ ہم سے جو اتنے دور تھے انہوں نے ہم سے زیادہ قرآن سیکھ لیا زیادہ احادیث سیکھ لیں اور زیادہ حضرت۔۔۔اقدس) کی کتب کا علم حاصل کر لیا اور یہ حقیقت ہے کہ ان ملکوں میں جو اسلام قبول کر رہے ہیں وہ سمجھ کر اور عیسائیت سے بیزار ہو کر قبول کر رہے ہیں آپ ان سے بات کر کے دیکھیں وہ آپ سے زیادہ جانتے ہیں کیونکہ انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ راہ نجات اسلام کے ساتھ وابستہ ہے اب راہ نجات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کے ساتھ وابستہ ہے۔پس میری بہنو اور بچیو غلبہ اسلام کا وقت قریب ہے آپ قربانیاں دیں اس راستہ میں آپ کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ہو سکتا ہے کہ ایسا وقت آئے کہ ان قربانیوں کی ضرورت باقی نہ رہے۔اس وقت جماعت کو ضرورت ہے آپ کی قربانیوں کی ، نقالی چھوڑ دیں اور جو صحیح راستہ اسلام کا ہے اس کو اختیار کریں اور جس شاہراہ اسلام پر آپ کو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز چلانا چاہتے ہیں ضروری ہے کہ جماعت کے مرد اور عور تیں پورے عزم اور اطاعت کے ساتھ آپ کے پیچھے چلیں۔بُرائیوں کو چھوڑ کر نقالی کو چھوڑ کر پاک صاف اور بدعتوں سے پاک معاشرہ پیدا کریں جس میں قرآن کریم کی آوازیں گونجیں قرآن کریم کا چرچا ہو قرآن کی تعلیم ہو جس طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے پوچھا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کیسے تھے تو آپ نے فرمایا كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنُ (مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 91) آپ قرآن پر عمل کرتے اور اسی پر عمل کرنے کو کہتے جو قرآن کی آیات میں درج ہے اسی طرح ہمارا عمل ہو میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کی برائیوں سے محفوظ رکھے ہمارے دلوں میں کبھی