خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 266 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 266

خطابات مریم 266 خطابات ان کو علم ہی نہیں ہوتا کہ قرآن نے کیا فرمایا ہے۔مثلاً پردہ کا حکم ہے ہر وقت ڈر رہتا ہے کہ شیطان کسی طرف سے حملہ آور ہو۔اس زمانہ میں میں سمجھتی ہوں کہ یہ سب سے بڑا حملہ ہے کہ شیطان یہ وسوسہ ڈال رہا ہے کہ پردہ چھوڑ دو حالانکہ قرآن میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ پردہ کرو اور اگر سمجھ لو کہ خدا کا حکم سب سے بڑھ کر ہے تو کوئی چیز نیکی کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔ماؤں کو اپنے بچوں کی صحیح رنگ میں تربیت کرنی چاہئے اور ان میں اور اپنے اندر قربانی کی وہ روح پیدا کرنی چاہئے جس کی مثالیں ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ملتی ہیں۔عہد یداران کو بھی ان قربانیوں میں برابر کا شریک ہونا چاہئے خواہ وہ مالی قربانی ہو ، جانی قربانی ہو یا وقت کی ہو ہمیں اس طرح اتحاد سے زندہ رہنا چاہئے جس طرح ایک ہاتھ کی انگلیاں یا کنگھی کے دندانے ، ساری جماعت کی خواتین میں محبت کا جذبہ ہونا چاہئے ، کوتا ہیاں ہر ایک سے ہوتی ہیں کھلے دل سے غلطیاں معاف کرنا سیکھیں۔عیب چینی اور بُرائی کی تشہیر سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں۔ہر بچہ اور عورت کو قرآن کریم کا ترجمہ آنا چاہئے کیونکہ یہ سب تعلیموں سے بڑھ کر تعلیم ہے اور اسی سے دوسری تمام تعلیمیں نکلتی ہیں۔آپ نے فرمایا ایک اور امر جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتی ہوں وہ یہ ہے کہ ہر بہن اپنی تعلیمی صلاحیت کے مطابق مطالعہ کتب حضرت اقدس کی طرف توجہ دے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے امسال مجلس مشاورت کے موقع پر بھی اس کی طرف بڑی توجہ دلائی ہے۔پس ایک دوسرے کے تعاون کے ساتھ عمل کریں اور ایک زنجیر اور موتیوں کی لڑیوں کی طرح اپنی زندگیاں بنائیں تاہم میں کسی قسم کی کمزوری اور انتشار پیدا نہ ہو اور ہم خدا کے حضور سرخرو ہوں۔قربانی کے جذبہ کو اپنی نسل میں زندہ رکھیئے تا کہ جہاں بھی وہ جائیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دنیا تک پہنچانے والے ہوں۔بچوں کو وقف کریں تا وہ احمدیت کے سچے خادم اور مبشر ثابت ہوں۔خدا کرے کہ جلد وہ دن آئے کہ ہم اسلام کا سورج اپنی آنکھوں سے دیکھیں تا دنیا میں ایک ہی مذہب ہو ، اسلام اور ایک ہی کلمہ ہوَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ( الفضل 12 مئی 1981ء)