خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 265 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 265

خطابات مریم 265 یک روزہ اجتماع لجنہ اماءاللہ ضلع شیخو پوره تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میری بہنو اور پیاری بچیو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ خطابات انسان کی روحانی تکمیل کیلئے 1400 سال قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے اور آپ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے تمام دنیا کیلئے ایک زندہ کتاب قرآن مجید کی صورت میں عطا فرمائی جو ہر زمانہ اور ہر طبقہ کیلئے ہے۔آپ نے فرمایا۔ہم نے اپنی آنکھوں سے الہی وعدوں کو پورے ہوتے دیکھا ہے اور یقین ہے کہ آج سے تیسری صدی پوری نہ ہوگی کہ مسیح علیہ السلام کے ماننے والے اسلام کی طرف رجوع کریں گے اور اسلام کا غلبہ شروع ہو جائے گا۔زمین و آسمان تو ٹل سکتے ہیں مگر یہ وعدے نہیں مل سکتے۔اس غلبہ کی بشارت کے ساتھ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کے متعلق سوچنا ہے اور اس نعمت کو اپنی آئندہ نسلوں میں منتقل کرنا ہے۔پس جماعت کی خواتین ہونے کے لحاظ سے سب سے بڑا فرض یہ ہے کہ وہ اس نعمت سے خود بھی فائدہ اُٹھائیں اور آئندہ نسلوں کو بھی اس سے متمتع کریں۔دوسری اہم چیز جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتی ہوں وہ قرآن کریم کا یہ حکم ہے کہ اطِيعُوا اللهَ وَاطِيْعُوا الرَّسُولَ وَ أولى الأمْرِ مِنْكُمْ (ال عمران : 33) ہمیں بحیثیت احمدی ہونے کے یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم صرف منہ سے ہی تو دعوی نہیں کرتے کیا ہماری دن اور رات کی زندگی اس کے متعلق گواہی دیتی ہے کہ ہم اپنے وعدوں پر عمل بھی کرنے والے ہیں؟ پس احکام الہی کی پابندی کرتے ہوئے حقوق اللہ کی ادائیگی کرنی چاہئے۔ایسی چیزیں جو دشمنی کا دروازہ کھولتی ہیں ان سے بچنا چاہئے اور اپنی زندگیوں میں ایک عظیم انقلاب پیدا کرنا چاہئے کیونکہ حضرت اقدس کی بعثت کا اصل مقصد يُحْي الدّينَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَة ( تذكره صفحه 55) ہے۔شریعت کے قوانین کو پھر دنیا میں قائم کریں اور قرآن کریم کو پڑھیں اور اس کا ترجمہ پڑھیں۔اگر ہم قرآن نہ پڑھیں تو کیسے پتہ چلے گا کہ کون کونسے احکام اسلام کو پورا کر رہے ہیں اور کن کن احکام کو چھوڑ رہے ہیں؟ بہت سی عورتیں قرآن کے احکام کو اس لئے چھوڑ دیتی ہیں کہ