خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 243 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 243

خطابات مریم 243 خطابات نیست و نابود ہو جائے۔اس کا نام باقی نہ رہے مسلمانوں کی کمزوری کا یہ عالم تھا کہ مسلمان اپنے کو مسلمان کہتے شرماتا تھا۔اسلام کے غلبہ کا تصور بھی کسی کے دل میں نہ تھا۔اسلام کو ایک ٹمٹماتی شمع سمجھا جاتا تھا کہ آج بھی بجھا اور کل بھی۔مولانا حالی نے اسی عالم میں کہا ہے اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے امت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے اس زمانہ میں صرف ایک وجود تھا جو رو رو کر اپنے مولا کے حضور تڑپ رہا تھا کہ مجھے اسلام کی فتح کا دن دکھا دے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو غالب کر دے۔وہ مایوس نہ تھا کیونکہ خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں وعدہ فرمایا تھا۔هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وتوكرة الْمُشْرِكُونَ (سورۃ الصف : 10) اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارت دی تھی کہ جو غلبہ آخری زمانہ میں مہدی کے ذریعہ سے ہوگا اور تیرہ صدیوں سے علماء وصلحاء امت آنے والے مہدی کا انتظار کرتے اور اس کے آنے کی بشارت دیتے چلے گئے چودہویں صدی آئی مہدی جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام بھیجا تھا وہ اپنے وقت پر آیا۔ان پیشگوئیوں اور علامتوں کے مطابق آیا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھیں۔چودہویں صدی گزرتی چلی گئی۔وہ ایک آواز جو قادیان کی سرزمین سے اٹھی تھی قادیان کی بستی سے نکلی اردگرد کے شہروں میں پہنچی وہاں سے دور کے شہروں میں پہنچی۔ہندوستان کی سرزمین سے اس کی گونج یورپ میں پہنچی ، امریکہ میں پہنچی ، افریقہ کے تاریک براعظم میں پہنچی ، جزائر میں پہنچی۔کوئی براعظم اور کوئی ملک دنیا کا ایسا نہ رہا جہاں احمدیت کی آواز نہ پہنچی۔جہاں احمدیت کے ذریعہ اسلام کی تعلیم اللہ تعالیٰ کی توحید کا پیغام نہ پہنچا ہو۔جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو انسانیت کے نجات دہندہ اور امن کے علمبردار تھے کا پیغام نہ پہنچا ہو۔کون سی کوشش تھی جو اس آواز کو دبانے کے لئے نہ کی گئی ہو مگر انسان کی کوشش اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے آگے باطل ہو جاتی ہے۔خدا تعالیٰ کے حسن کے آگے کوئی کچھ نہیں کر سکتا اور جب کہ چودہویں صدی ختم ہو رہی ہے ہم اس بات پر خوش ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے فرستادہ کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی۔ہم