خطابات مریم (جلد دوم) — Page 211
خطابات مریم 211 خطابات من عمل صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أو أنثى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيوةٌ طَيِّبَةً ولَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (النمل: 98) جو کوئی مومن ہونے کی حالت میں نیک اور مناسب حال عمل کرے گا مرد ہو کہ عورت ہم اس کو یقیناً ایک پاکیزہ زندگی عطا کریں گے اور ہم اُن تمام لوگوں کو ان کے بہترین عمل کے مطابق ان کے تمام اعمال صالحہ کا بدلہ دیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں یہ بھی فرماتا ہے۔د ما اموالكم ولا اَوْلَادُكُمْ بِالَّتِي تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفَى إِلَّا مَنْ مَن وَعَمِلَ صَالِحًا ، فأول لَهُمْ جَزاءُ الضعف بِمَا عَمِلُوا وَهُمْ فِي الغرفت امنُونَ (سورة سبا : 38) ترجمہ: اور تمہارے مال اور تمہاری اولادیں ایسی چیزیں نہیں کہ تم کو ہمارا مقرب بنا دیں ہاں جو ایمان لاتا ہے اور اس کے مناسب حال عمل کرتا ہے وہی ہمارا مقرب ہوتا ہے اور ایسے ہی لوگوں کو اُن کے اچھے اعمال کی وجہ سے بڑھ چڑھ کر بدلے ملیں گے اور وہ بالا خانوں میں امن سے زندگی بسر کریں گے۔بے شک مال بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت ہے اور اولا دبھی لیکن اللہ تعالیٰ کی محبت صرف اعمال صالحہ کی ادائیگی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اطاعت اور حضرت خلیفہ المسح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ کے ان احکامات پر چلنے سے جو انہوں نے آپ کے لئے جاری کئے ہیں مل سکتی ہے جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکی ہوں کہ آپ نمائندہ کی حیثیت سے آئی ہیں۔یہاں سے واپس جا کر کوشش کریں جائزہ لیں اور سب بہنوں کا تعاون حاصل کر کے کوشش کریں کہ ہر لجنہ اماءاللہ کی ممبر سرگرم عمل ہو جائے ہم میں جو بُرائیاں ہیں ان کو دور کریں اپنی اولا د اور اگلی نسل کی تربیت میں لگ جائیں۔اپنے معاشرہ میں کسی بدعت اور رسم کو پنپنے نہ دیں۔اپنی تعلیم کی طرف، دین سیکھنے کی طرف ، قرآن کریم کے مطابق اپنی ندگیاں ڈھالنے کی طرف اعلیٰ اخلاق پیدا کرنے کی طرف پوری پوری توجہ دیں جیسا کہ حضرت خلیفۃ اصبح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے گزشتہ سال جلسہ سالانہ کے موقعہ پر