خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 212 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 212

خطابات مریم فرمایا تھا: 212 خطابات ”ہماری روحانی زندگی اور جماعت احمدیہ کی روحانی اجتماعی زندگی محمد ﷺ کی محبت میں فنا ہو کر زندہ رہنا ہے انسان کمزوری کر جاتا ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن تو بہ اور استغفار کا دروازہ خدا تعالیٰ نے کھولا ہے تا کہ ہم پھر اس کی طرف واپس لوٹیں لیکن ہماری زندگی قائم نہیں رہ سکتی اگر ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن چھوڑ کر دنیا کا خیال کریں اور دنیا دارانہ تعلقات کو ترجیح دیں اور جو تعلق ہمارا خدا اور اس کے رسول محمدعلی سے ہے اس تعلق محبت کو اس تعلق عشق کو اس تعلق فدائیت اور ایثار کو اس جذ بہ کو کہ اگر ہزار زندگیاں بھی ملیں ہمیں تو ہم خدا پر اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کر دیں گے اس تعلق کو دنیا کی کوئی کشش دنیا کا کوئی جاد و قطع نہیں کر سکتا۔(المصابیح صفحہ 348) میری عزیز بہنو! آپ نے تو ساری دنیا کے لئے نمونہ بننا ہے یہ کام ہے ہمارالجنہ کا۔آپ نے معلمات بننا ہے ان مستورات کے لئے جو جماعت میں آئندہ داخل ہوں گی۔ان کو علم دین سکھانا ، مسائل سمجھانے ، اسلامی اخلاق و آداب کی تعلیم آپ نے دینی ہوگی اور اس کیلئے اگلے چند سالوں میں آپ نے تیاری کرنی ہے۔ایک لڑکی جس کا ارادہ ایم۔اے یا پی۔ایچ۔ڈی کرنے کا ہوتا ہے وہ چھٹی ساتویں جماعت سے ہی محنت اور کوشش کرتی ہے کہ ہر امتحان میں اچھے نمبروں پر پاس ہوتی چلی جائے اور اپنی منزل کو پا سکے۔ہماری منزل بھی یہی ہے کہ ہم وہ دن دیکھیں جب اسلام ساری دنیا میں پھیل جائے گا اور پچھلوں کا کام ہوگا کہ آنے والوں کو دین کا علم سکھائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو علوم کے خزانے لٹانے آئے تھے جیسا کہ آپ نے فرمایا :۔وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے میں دیتا ہوں اگر کوئی ملے امید وار ان خزائن سے پہلے اپنی جھولیاں بھریں اور پھر آنے والوں میں تقسیم کریں تا وہ بھی ان سے فائدہ اُٹھا ئیں۔