خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 210 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 210

خطابات مریم 210 خطابات احمدی گھرانوں میں شادی کے موقع پر خصوصاً رسوم سے اجتناب نہیں کیا جاتا۔کیا ہم نے احمدی ہوتے ہوئے یہ عہد نہیں دہرایا تھا کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے۔لیکن بیٹے کا رشتہ تلاش کرتے وقت یہ دیکھا جاتا ہے کہ لڑکی جہیز میں کیا لائے گی؟ لڑکے والوں کو جوڑے کتنے میں گے۔تھوڑا ہی عرصہ ہوا کسی بہن سے باتوں باتوں میں مجھے یہ علم ہوا کہ ایک احمدی گھرانہ نے دوسرے احمدی گھرانہ سے رشتہ کرنے سے صرف اس وجہ سے انکار کر دیا کہ ان کا گھر معمولی سا اور شہر کے اندر تھا اس خواہش کا اظہار کیا کہ اگر وہ کوئی کوٹھی کرایہ پر لے لیں تو ہم رشتہ کر لیں گے میں نے کہا ہرگز نہ کرنا اگر لڑکی کا دین انہوں نے نہیں دیکھا اعلیٰ اخلاق نہیں دیکھے اچھی تربیت نہیں دیکھی تو وہ لیں بھی تو آپ انکار کر دیں کہ ہم نے بیٹی دینی ہے کو بھی نہیں۔یہ تو صرف ایک مثال ہے، وقت نہیں بیسیوں مثالیں ایسی ہیں جو میرے مشاہدہ اور علم میں آ چکی ہیں۔میری بہنو! دنیا کتنی ترقی کر چکی ہے۔بجائے علم وفضل میں آگے بڑھنے ، بجائے علوم میں تحقیقات کرنے ، علمی کاموں میں حصہ لینے ، دینی امور میں دوسروں کی راہنمائی کرنے والے بننے کے اس دلدل میں ہم پھنسے ہوئے ہیں۔ان باتوں سے نہ عزت حاصل ہوگی نہ بزرگی۔عزت قرآن پڑھنے سے ملے گی۔عزت قرآن پر عمل کرنے سے ملے گی۔عزت قرآن کی تعلیم دینے سے ملے گی۔عزت اعلیٰ اخلاق کے اظہار سے ملے گی۔عزت خدا تعالیٰ دیتا ہے اس کے مقرب بننے سے ملے گی اور اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے۔فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحًا وَّ لَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّةٍ اَحَدًا (الكهف:111) پس جو شخص اپنے رب سے ملنے کی امید رکھتا ہو اُسے چاہئے کہ نیک اور مناسب حال کام کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے۔یعنی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کیلئے ایمان کے مناسب حال کام کرنے ضروری ہیں وہ قربانیاں جن کا امام تقاضا کرے وہ کام جن کے کرنے کا خلیفہ وقت کا ارشاد ہو پھر قرآن مجید میں ایک گر بتا دیا گیا ہے اور اس میں مرد اور عورت کی کوئی تفریق نہیں۔اللہ تعالیٰ کی محبت ہر ایک حاصل کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ قرآن کے بتائے ہوئے راستہ پر چلے اور وہ یہ ہے کہ