خطابات مریم (جلد دوم) — Page 148
خطابات مریم 148 خطابات جماعت احمدیہ کے مرد و خواتین کا سب سے بڑا کام اخلاق فاضلہ کو قائم کرنا ہے۔بہت سی غلطیاں انسان لاعلمی میں کرتا ہے گناہ کو گناہ نہیں سمجھتا، غلطی کو غلطی نہیں سمجھتا۔جب غلطی کرتا ہے تو اپنی عقل سے یہ سمجھتا ہے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں ٹھیک ہے۔خاص طور پر چھوٹے اور نو عمر بچے ان کو اسلامی احکام آداب اور اخلاق سے روشناس کروانا ان کو اسلامی آداب اور اخلاق کے متعلق تعلیم دینا آپ کا اور صرف آپ کا فرض ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض احیائے اسلام تھی۔دلائل ، واقعات اور عمل کے ساتھ آپ نے ثابت فرمایا کہ اسلام ہی واحد زندہ مذہب ہے جس پر گامزن رہ کر نجات اور امن حاصل ہو سکتا ہے۔اسی لئے اپنی تصنیف کشتی نوح میں جو حقیقت میں اس زمانہ کے دجل اور گمراہی کے عظیم سیلاب میں کشتی نوح ہی ثابت ہوئی فرمایا :۔" یہ مت خیال کرو کہ ہم نے ظاہری طور پر بیعت کر لی ہے ظاہر کچھ چیز نہیں خدا تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے اور اُسی کے موافق تم سے معاملہ کرے گا۔دیکھو میں یہ کہہ کر فرض تبلیغ سے سبکدوش ہوتا ہوں کہ گناہ ایک زہر ہے اُس کو مت کھاؤ۔خدا کی نافرمانی ایک گندی موت ہے اس سے بچو دعا کرو تا تمہیں طاقت ملے جو شخص دعا کے وقت خدا کو ہر ایک بات پر قادر نہیں سمجھتا بجز وعدہ کی مستثنیات کے وہ میری جماعت میں سے نہیں جو شخص جھوٹ اور فریب کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے جو شخص دنیا کے لالچ میں پھنسا ہوا ہے اور آخرت کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتاوہ میری جماعت میں سے نہیں ہے جو شخص در حقیقت دین کو دنیا پر مقدم نہیں رکھتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔جو شخص پورے طور پر ہر ایک بدی سے اور ہر ایک بد عملی سے یعنی شراب سے قمار بازی سے بد نظری سے اور خیانت سے رشوت سے اور ہر ایک ناجائز تصرف سے تو بہ نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔جو شخص پنجگانہ نماز کا التزام نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے جو شخص دعا میں لگا نہیں رہتا اور انکسار سے خدا کو یاد نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔جو شخص بدرفیق کو نہیں چھوڑتا جو اس پر بداثر ڈالتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔جو شخص اپنے ماں باپ کی عزت