خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 144 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 144

خطابات مریم 144 دوسرا قدم یہ ہونا چاہئے کہ نماز روزہ اور شریعت کے دوسرے موٹے موٹے احکام کے متعلق آسان اُردو زبان میں مسائل لکھ کر تمام عورتوں کو سکھا دیئے جائیں اور پھر تیسرا قدم یہ ہونا چاہئے کہ ہر ایک عورت کو نماز کا ترجمہ یاد ہو جائے تا کہ اُن کی نماز طوطے کی طرح نہ ہو کہ وہ نماز پڑھ رہی ہوں مگر ان کو یہ علم نہ ہو کہ وہ نماز میں کیا کہہ رہی ہیں اور آخری اور اصل قدم یہ ہونا چاہئے کہ تمام عورتوں کو باترجمہ قرآن مجید آ جائے اور چند سالوں کے بعد ہماری جماعت میں سے کوئی عورت ایسی نہ نکلے جو قرآن مجید کا ترجمہ نہ جانتی ہو۔خطابات الاز ہارلذوات الخمار صفحہ 399،398) حضرت مصلح موعود کی ان ہدایات پر 32 سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن اس عرصہ میں گو لجنہ اماءاللہ کی زیادہ توجہ تعلیم پھیلانے کی طرف ہی رہی ہے لیکن اس سال تعلیمی جائزہ لینے پر یہ حقیقت بھی سامنے آئی ہے کہ بہت کم تعداد میں ایسی لجنات ہیں جہاں سو فیصدی مستورات ناظرہ قرآن مجید جانتی ہیں یا اُردو لکھنا پڑھنا جانتی ہیں اور ترجمہ تو سوائے چند لجنات کے چار پانچ فی صدی سے زائد مستورات نہیں جانتیں۔بعض جگہ جب اس بات پر زور دیا جائے کہ اُردو لکھنا پڑھنا سکھاؤ یا قرآن مجید پڑھاؤ تو جواب ملتا ہے کہ یہ چند عورتیں جو نہیں جانتی یہ بہت بوڑھی ہیں۔ان کو پڑھانا اب ناممکن ہے لیکن دیہات میں یہ صورت نہیں وہاں نوجوان عورتوں اور بچیوں میں سے ابھی بہت سی اُردو لکھنا پڑھنا نہیں جانتیں۔پس سال رواں کے لئے دیہاتی لجنات کے سپرد چندہ کے علاوہ صرف اور صرف ایک کام تجویز کروں گی۔سو فیصدی عورتوں بچوں کو قرآن مجید ناظرہ پڑھانا اور اُردو لکھنا پڑھنا سکھانا۔اگر پوری کوشش کی جائے اور سارا سال مکمل جد و جہد اس سلسلہ میں کی جائے تو مجھے یقین ہے کہ ایک سال میں نمایاں نتائج برآمد ہوں گے۔اس سلسلہ میں مرکزی لجنہ اماء اللہ کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلاتی ہوں بشر طیکہ مقامی لجنہ پورے عزم اور محنت سے کام کرے۔ہر وہ عورت جو اردولکھنا پڑھنا جانتی ہے کم از کم ایک عورت کو سال میں اُردولکھنا پڑھنا سکھا دے۔ہر سال خاصی تعداد میں مستورات اپنے آپ کو وقف عارضی کے طور پر بھی پیش کرتی ہیں وہ بھی اپنے عرصہ وقف کے دوران اس