خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 143 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 143

خطابات مریم 143 خطابات صرف نام کی نہیں بلکہ اُسے لجنہ اماءاللہ کی ترقی۔جماعت کی بہبودی اور ترقی کی فکر ہو اور یہ سوچنے والی ہو کہ میرا اس میں کیا حصہ ہے۔اس لئے جہاں عہدیداران کا یہ فرض ہے کہ وہ صحیح طور پر کام کریں اور اپنے کام کی مرکزی لجنہ کو رپورٹ دیتی رہیں۔وہاں نمبرات کا یہ فرض ہے کہ وہ عہد یداران سے مکمل تعاون کریں اور یہ دیکھتی رہیں کہ ان کا مرکزی لجنہ سے رابطہ ہے یا نہیں۔اگر آپ کی صدر اور سیکرٹری کام نہیں کرتیں یا کام تو کرتی ہیں مگر رپورٹ نہیں بھجوا تھیں تو وہ اس بات کی مستحق نہیں کہ آئندہ ان کو رکھا جائے۔یوں بھی اس سال بجنات اماءاللہ کے سہ سالہ انتخابات ہونے ہیں۔ان تمام لجنات میں جو فعال نہیں بہنوں کو فوراً ایسی صدر کا انتخاب کرنا چاہئے جو خود بھی کرنے کا جذبہ اور لگن رکھتی ہو اور دوسری مستورات اور بچیوں سے کام کروانے کا اُسے ڈھنگ بھی ہو اور اگر آپ اُسے منتخب کر لیں تو پھر آپ کی اہم ذمہ داری اس کے ساتھ مکمل تعاون کرنا ہے۔بغیر اتحاد اور مکمل تعاون کے نہ کوئی مجلس ترقی کر سکتی ہے اور نہ کوئی قوم۔رپورٹ بھجوانے کے سلسلہ میں مرکزی لجنہ اماءاللہ کی طرف سے بار بار جواب طلبی پر دیہاتی لجنات میں سے تو بہت سی لجنات کی طرف سے یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ بعض مقامات میں ایک عورت بھی لکھنا نہیں جانتی۔اس لئے لجنہ اماء اللہ کے کاموں کی رپورٹ نہیں بھجوائی جاسکتی یہ ایک بہت بڑی کمی ہے جو دیہاتی مستورات میں پائی جاتی ہے اور اس خامی کو دور کرنا آپ کا کام ہے۔علم ایک روشنی ہے اور علم کا سیکھنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرد اور عورت پر فرض قرار دیا ہے۔ہماری بد قسمتی ہے کہ مناسب انتظام نہ ہونے کے باعث اور دیہات کے مخصوص ماحول کی وجہ سے ابھی تک دیہات میں تعلیم عام نہیں ہے لیکن ایک احمدی عورت کو دیگر خواتین سے ترقی کی دوڑ میں آگے ہونا چاہئے۔حضرت مصلح موعود نے 1944ء میں اپنی جلسہ سالانہ کی تقریر میں ایک مکمل اور مربوط پر وگرام لجنہ اماءاللہ کے سامنے رکھا تھا جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ:۔پس لجنہ اماءاللہ کا پہلا قدم یہ ہونا چاہئے کہ جب ان کی تنظیم ہو جائے تو جماعت کی تمام عورتوں کولکھنا اور پڑھنا سکھا دے۔