خطابات مریم (جلد دوم) — Page 142
خطابات مریم 142 خطابات اے نبی یاد دلا تارہ کیونکہ یاددلا نا مومنوں کو نفع بخشتا ہے۔پھر سورۃ اعلیٰ میں فرماتا ہے۔فَذَيرُ إِن نَّفَعَتِ الذِّكْرَى سَيَذَكَرُ مَن يَخْشَى وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى پس تم بھی نصیحت کرو۔نصیحت کرنا ہمیشہ مفید ہی رہا ہے۔جو خدا سے ڈرتا ہے وہ یقیناً نصیحت حاصل کر گیا اور اس کے برخلاف جو نہایت بد بخت ہوگا وہ اس سے گریز ہی کریگا۔قرآن مجید کی یہ آیات ہماری راہ نمائی کرتی ہیں کہ معاشرہ کی اصلاح اور تربیت کیلئے ضروری ہے کہ بار بار نصیحت کی جائے۔بُری باتوں سے روکا جائے ان کے فرائض کا احساس دلایا جائے۔دلوں میں دین کی محبت اور اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا کیا جائے کیونکہ قرآن مجید کی ان آیات کے مطابق نصیحت کا فائدہ وہی شخص اُٹھاتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ معاشرہ میں کسی فرد کو بُرائی کرتے دیکھو۔اگر طاقت ہو تو ہاتھ سے روکو۔ہاتھ سے نہ روک سکو تو زبان سے رو کو یعنی نصیحت کرو کہ بہن یہ کام آپ بُرا کر رہی ہیں۔یا میری بچی یہ حرکت تمہاری ہماری روایات کے خلاف ہے اور زبان سے روکنے کی طاقت بھی نہ پاؤ تو کم از کم دل میں بُرا مان لو کہ یہ کم از کم نیکی ہے۔چونکہ اس سال اجتماع منعقد نہیں ہو سکا۔آئندہ سال کے لئے چند باتیں اس موقعہ پر بیان کرنی تھیں وہ آج بیان کروں گی۔جلسہ سالانہ پر یوں بھی قریباً ہر جگہ سے خواتین آتی ہیں جن میں عہدیداران بھی ہوتی ہیں اور ممبرات بھی۔سب ہی توجہ سے ان باتوں کو سنیں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔سب سے پہلے میں اس چیز کی طرف توجہ دلاتی ہوں کہ جہاں بہت سی شہری اور دیہاتی بجنات اپنے فرائض احسن طور پر سر انجام دے رہی ہیں وہاں ایک بہت بڑی تعداد لجنات کی ایسی ہے جن کا مرکزی لجنہ اماء اللہ سے مضبوط تعلق قائم نہیں نہ وہ اپنی رپورٹ بھجواتی ہیں نہ اُن کی طرف سے چندہ آتا ہے۔پاکستان میں چھ سو کے قریب لجنات قائم ہیں لیکن جو سال ختم ہوا اس میں 318 لجنات کی طرف سے چندہ لجنہ اماءاللہ کا آتا رہا ہے رپورٹ اس سے بھی کم تعداد میں۔پس پہلی ہدایت آپ کی ترقی کیلئے یہ ہے کہ آپ منتظم ہوں۔ہر احمدی خاتون لجنہ کی ممبر ہو۔