خطابات مریم (جلد دوم) — Page 111
خطابات مریم 111 خطابات اختتامی خطاب جلسہ سالانہ خواتین 1973ء آپ نے الوداعی خطاب میں فرمایا کہ گو آج جلسہ کا اختتامی دن ہے لیکن بعض بہنوں کو اس جلسہ اور اس کی عظمت کا احساس نہیں ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس غرض سے اس جلسہ کے انعقاد کا حکم فرمایا تھا وہ تبھی پوری ہوسکتی ہے جب ہم اپنے نمونہ سے اور اپنے قول و فعل سے ثابت کریں۔ہم یہ جلسہ میلے اور تماشے کے لئے نہیں مناتے بلکہ خدا اور اس کے رسول اور اس کے خلیفہ کی باتیں سننے اور ان پر عمل کرنے کے لئے مناتے ہیں۔ہزاروں ایسی بہنیں ہوں گی جو مغربی افریقہ، انڈونیشیا، نجی، آئر لینڈ اور یورپ وغیرہ میں ہوں گی اور ان کے دل خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے لئے یہ سوچ کر تڑپ رہے ہوں گے کہ حضور ایدہ اللہ خطاب کر رہے ہوں گے چنانچہ بڑی مبارک ہیں وہ ہستیاں جنہوں نے ان تقاریر سے فائدہ اُٹھایا اور بڑی بد قسمت ہیں وہ ہستیاں جنہوں نے اپنا وقت کھانے پینے اور پھر نے میں صرف کیا۔آپ نے تقویٰ اختیار کرنے ، اللہ تعالیٰ پر توکل رکھنے ، یاد الہی میں مصروف ہونے اور اپنے عہد کو صحیح طور پر نبھانے کی تلقین فرمائی اور کہا اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم صحت احمد بیت اور اسلام کی نعمت عطا کی ہے۔میری بہنو! وقت کی قدر پہچانیں آپ کی قوت و صلاحیتیں اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کی اشاعت کے لئے خرچ ہونی چاہئیں۔اسی مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث کیا۔اس لئے ضروری ہے اور بڑا ہی ضروری ہے کہ ہماری ہر بہن قرآن کریم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ کرے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو ظلمات سے نور کی طرف لے جانے کے لئے دنیا میں بھیجا۔آپ نے فرمایا قرآن مجید کی اشاعت کے ساتھ ساتھ اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔آپ کسی قصبہ میں یا شہر میں کسی بھی عہدہ پر ہوں۔آپ میں سے ہر ایک جس نے حضرت مسیح موعود