خطابات مریم (جلد دوم) — Page 110
خطابات مریم 110 افتتاحی خطاب جلسہ سالانہ 1973ء خطابات آپ نے تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس آخری زمانہ میں حضرت مہدی موعود علیہ السلام کے ذریعہ غلبہ اسلام مقدر تھا جس کے اشارے اور پیشگوئیاں جا بجا قرآن مجید میں موجود ہیں اور جس کی آمد کی بشارتیں خود ہمارے آقا خاتم النبین حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیں یہاں تک کہ آنے والے مہدی کو سلام بھی بھیجا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مختلف ممالک اور مختلف زمانوں میں صلحاء امت، امت محمدیہ کو آنے والے مہدی کی بشارتیں دیتے رہے اور اس کی آمد کا انتظار کرنے کی تاکید کرتے رہے جب مہدی علیہ السلام کے ظہور کا وقت آیا تو وہ علامات اور نشانیاں جو قرآن مجید میں بیان ہوئی تھیں اور جن کی نشاندہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھیں یکے بعد دیگرے پوری ہونی شروع ہوئیں۔یہ وہ زمانہ تھا جب کہ مسلمان انتہائی مایوسی کا شکار ہورہے تھے ایک طرف عیسائیت اپنے تمام ہتھیاروں کے ساتھ اسلام پر حملہ آور تھی بلکہ یقین رکھتی تھی کہ سارے ہندوستان بلکہ آہستہ آہستہ (خدانخواستہ ) مکہ اور مدینہ پر بھی یسوع مسیح کا پرچم لہرا دیں گے۔آپ نے عیسائیت یہودیت اور مخالفین اسلام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود نے تمام مذاہب اور تمام دنیا کو چیلنج کرتے ہوئے اسلام کے غلبہ کی بشارت دی۔حضرت سیدہ صدر صاحبہ نے مقصد بعثت مسیح موعود علیہ السلام کا ذکر کرنے کے بعد تو حید خالص پر ایمان، قربانیوں میں جوش، تسلسل دین کو دنیا پر مقدم رکھنے اور تربیت اولاد، اوقات کو ضیاع سے بچانے ، مادہ پرستی سے اجتناب اور دعویٰ ایمان کے مطابق عمل کرنے کی طرف مستورات کو خصوصی توجہ دلائی۔آپ نے فرمایا:۔دنیا کے کناروں تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام پہنچ چکا ہے۔آپ کے داعیان ہر طرف تثلیث سے جنگ کر کے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا پیغام پہنچارہے ہیں۔زمین و آسمان ٹل سکتے ہیں مگر جو مدے خدا نے اپنے مسیح سے کئے ہیں وہ ٹل نہیں سکتے۔انشاء اللہ (افضل 6 جنوری 1974ء) وعد۔