خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 95 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 95

خطابات مریم 95 خطابات حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ایدہ میں اس تقریر میں اس لئحہ عمل کا خلاصہ بیان کرتی ہوں جو گزشتہ سال حضرت خلیفہ اسیح الثالث اللہ کا بیان فرمودہ لائحہ عمل ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے پیش فرمایا تھا۔سب سے پہلے تو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کی خواتین کو تہجد کی نماز کی باقاعدگی کی طرف توجہ دلائی تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمد یہ جماعت کی کثرت سے خواتین نماز تہجد کی عادی ہیں لیکن ضروری ہے اس نیکی کی لجنہ اماء اللہ کی طرف سے اس حد تک تلقین کی جائے اس موضوع پر تقاریر ہوں کہ سب بہنوں اور بچیوں کو اس نیکی کو اختیار کرنے کی رغبت پیدا ہو۔یاد رکھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ نیکی کی تحریک کرنے والے کو بھی نیکی کرنے والے کی طرح ثواب ملتا ہے۔امت محمدیہ کی قرآن مجید میں بھی یہی خصوصیت بیان کی گئی ہے کہ ولتكن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَا مُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عنِ الْمُنكَرِ، وَأُولَيكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ( سورۃ آل عمران : 105) اور تم میں سے ایک ایسی جماعت ہونی چاہئے جس کا کام صرف یہ ہو کہ وہ (لوگوں کو ) نیکی کی طرف بلائے اور نیک باتوں کی تعلیم دے اور بدی سے رو کے اور یہی لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔یعنی ایسی جماعت اپنے ہر مقصد میں کامیاب ہوگی۔اس آیت میں مسلمانوں کی ترقی کے تین عظیم الشان گر بیان کئے گئے ہیں تبلیغ اسلام ، نیک کام کرتے رہنے کی تحریک کرتے رہنا اور بُرے اور نا پسندیدہ امور سے لوگوں کو روکتے رہنا۔انسان کمز ور فطرت واقع ہوا ہے کبھی بدی کی تحریک اس پر غالب آ جاتی ہے کبھی نیکی کی۔لیکن اگر اس کے کانوں میں ہر وقت اچھی اور نیک باتیں پڑتی رہیں اور بُرے کاموں کی نشان دہی کی جاتی رہے تو بہت سی روحیں برائیوں سے بچ جاتی ہیں۔نماز تہجد کی جسے عادت پڑ جائے وہ بہت سی بُرائیوں سے محفوظ ہو جاتا ہے۔پس ایک منظم پروگرام بنایا جائے ہر اجلاس ہر جلسہ ہر محفل اور ہر مجلس میں مستورات کو تہجد پڑھنے کی تاکید کی جائے۔