خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 96 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 96

خطابات مریم 96 96 خطابات دنیا جس تیزی سے مادہ پرستی کی طرف جھک رہی ہے اس کا علاج ہی یہی ہے کہ اُسی تیزی سے اس کا مقابلہ کیا جائے یہ مقابلہ صرف اُسی صورت میں ہو سکتا ہے جب ہم دنیا کی بجائے دین کی طرف متوجہ ہوں ہماری روحانیت ترقی کرے ہماری زندگی کا مقصد دنیا نہ ہو بلکہ تمکنت دین اور اشاعت اسلام ہو۔ہر طرف سے دجال اوچھے ہتھیاروں سے حملہ آور ہے کہیں یہ کہہ کر بے پردگی اختیار کی جارہی ہے کہ پردہ چہرہ کا نہیں پر دے کے وہ معنی نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء نے بیان فرمائے کہیں رسم و رواج کی آڑ میں شیطان کا حملہ ہے اسلام پر خواہ کیسا کڑا وقت آ جائے جماعت کو کتنی قربانیوں کی ضرورت ہو۔ملک ایک کشمکش میں سے گزر رہا ہو لیکن برادری رشتہ داروں اور کنبہ میں بات رہ جائے کہیں حضرت مصلح موعود کے واضح ارشاد کے خلاف سیما بینی کا پرچار ہے کہ اگر سنیما نہ دیکھا تو نہ اپنے دماغ روشن ہونگے نہ اولاد کے۔غرض ایک نہیں مختلف ہتھیاروں سے لیس ہو کر شیطان حملہ آور ہے ہمیں ان ہتھیاروں کا مقابلہ کرنا ہے۔اپنی اگلی نسل کو بچانا ہے۔ان کو آئندہ قربانیوں کے لئے تیار کرنا ہے ان میں اللہ تعالیٰ سے عشق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت پیدا کرنی ہے۔ان کے دلوں میں قوم کا درد پیدا کرنا ہے۔غرباء کی محبت پیدا کرنی ہے ملک کا وفادار بنانا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء کی اطاعت کا جذبہ ان کے دلوں میں پیدا کرنا ہے۔احمدیت کی خاطر زندگیاں وقف کرنے کا شوق ان کے دلوں میں پیدا کرنا ہے اور یہ سب کچھ کرنے کے لئے دعائیں بھی کرنی ہیں اور اپنے بچوں کی صحیح اسلامی رنگ میں تربیت بھی کرنی ہے خود قرآن پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کا جذبہ پیدا کریں اپنی زندگیاں اُسوہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی صحابیات کے نمونہ کے مطابق گزاریں تا آپ کی زیر تربیت بچیاں بھی آپ کے رنگ میں رنگین ہوں۔خدمت کو وسیع کرنے کی ضرورت حضرت خلیفہ المسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ نے دوسرا ارشاد اپنے دائرہ خدمت کو وسیع کرنے کا فرمایا تھا۔سال رواں میں سیلاب کی وجہ سے حتی الوسع لجنات نے انفرادی اور اجتماعی ہر دو رنگ میں سیلاب زدگان کی مدد کرنے میں حصہ لیا لیکن وہ ایک ہنگا می کام تھا۔