خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 93 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 93

خطابات مریم 96 93 خطابات ہر جگہ لجنہ قائم کی جائے اور وہاں کی عورتوں کو منظم کیا جائے اس کے بعد جس طرح مردوں کے دو اجتماع ہوتے ہیں ایک یہ جلسہ سالانہ اور ایک مجلس شوری اس طرح عورتیں بھی اس جلسہ کے علاوہ کسی اور موقع پر اپنا ایک دوسرا اجتماع کیا کریں ہندوستان کی اور تمام لجنات کی طرف سے نمائندہ عورتیں اس اجتماع میں شامل ہو کر اپنے کاموں پر غور کریں اور ایسے قواعد مرتب کریں جن سے وہ مزید ترقی کرسکیں“۔الازهار لذوات الخما رصفحہ 399) حضرت مصلح موعود کے اس ارشاد کی تعمیل میں 1965ء سے لجنہ اماءاللہ مرکز یہ سالانہ اجتماع کا انعقاد کر رہی ہے لیکن ابھی تک ساری لجنات کی نمائندگی نہیں ہورہی صحیح نمائندگی احمدی خواتین کی اس وقت ہو سکتی ہے جب ہر لجنہ سے خواہ ایک نمائندہ خاتون آئے لیکن ضرور شامل ہو اپنی مشکلات پیش کریں غور ہو حل تلاش کئے جائیں تالجنہ ترقی کرے۔گزشتہ سال 146 مجالس سے 1001 مستورات نے شرکت کی تھی۔اس دفعہ 149 لجنات کی 1033 مستورات اجتماع میں شامل ہوئی ہیں۔ایک زندہ قوم کی شان کے شایاں نہیں کہ اتنے بڑے اجتماع میں اس کا تیسرا یا چوتھا حصہ شامل ہو۔اس کا یہ مطلب ہے کہ جو کارروائیاں اس اجتماع میں ہونگیں اُن سے صرف تیرا یا چوتھا حصہ واقف ہوگا باقی نہیں۔گزشتہ سال اجتماع کے موقع پر حضرت خلیفۃ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے لجنات کو اس طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا تھا۔پس یہ کیفیت کہ لجنہ کی بعض مجالس تو بڑی ایکٹو (Active) یعنی بہت کام کرنے والی اور بڑے اخلاص سے کام کرنے والی ہیں انہوں نے قربانیاں دے کر نہ صرف اپنی تنظیم کو زندہ رکھا بلکہ اس کو آگے سے آگے بڑھایا ہے مگر لجنہ کی بعض مجالس ایسی بھی ہیں جو کچھ کام تو کرتی ہیں لیکن اتنا کام نہیں کرتیں کہ ان کو تھرڈ ڈویژن میں بھی پاس ہونے کے قابل سمجھا جا سکے اس لئے ان کو بیدار کرنا اور ان کے اندر زندگی کی روح پیدا کرنا بڑا ضروری ہے اور جہاں جہاں بھی جماعت احمدیہ قائم ہے وہاں لجنہ اماء اللہ کی مجلس بھی قائم ہونی چاہئے گو جتنی جگہوں پر جماعت قائم ہوئی ہے وہ بھی کافی نہیں