خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 78 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 78

خطابات مریم 78 تحریرات جب قادیان وا پسی ہوتی تب آپ گھر میں داخل ہو کر سب سے پہلے حضرت اماں جان سے ملتے پھر بیت الدعا میں نفل پڑھتے۔قادیان سے ہجرت کے بعد بھی بیت الدعا تو نہ تھی لیکن سفر پر جاتے ہوئے گھر میں ہی دو نفل پڑھ کر روانہ ہوتے تھے۔مجھے کبھی آپ کا سفر یاد نہیں کہ آپ یونہی روانہ ہوئے ہوں۔حضرت اماں جان کی وفات کے بعد ا کثر مجھے یاد ہے کہ لا ہور وغیرہ جاتے ہوئے راستہ میں بہشتی مقبرہ ربوہ میں ٹھہر کر دعا کر کے روانہ ہوا کرتے تھے۔سفر میں آپ کی جیب میں چھوٹی حمائل ہمیشہ رہتی اور اکثر راستہ میں قرآن مجید کی تلاوت فرماتے رہتے۔قرآن مجید کے سلسلہ میں ایک واقعہ یاد آیا ایک دفعہ جلسہ کے لئے میں نے تقریر تیار کرنی تھی۔میں نے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ مجھے سمجھ نہیں آتی۔کس موضوع پر تقریر کروں فرمانے لگے یہ بھی کوئی مشکل بات ہے۔قرآن مجید کھولو جس آیت پر سب سے پہلے نظر پڑے اس کے مطابق مضمون تیار کر لو۔فرمانے لگے میرا تو یہی طریق رہا ہے۔سوائے اس کے کہ کسی خاص سلسلہ میں خطبہ جمعہ میں کوئی مضمون بیان کرنا ہو عموماً جمعہ پر جاتے ہوئے قرآن مجید ہاتھ میں لے کر دعا کر کے کھولتا ہوں۔جہاں سے ورق کھلتے ہیں جو آیات سب سے پہلی بار نظر آتی ہیں وہی مضمون بیان کر دیتا ہوں۔طبیعت بے حد سادہ تھی نمائش سے گھبراتے تھے لیکن سادگی کے ساتھ۔طبیعت میں نفاست بہت زیادہ تھی۔کھانے پینے لباس ہر چیز میں نفاست پسند تھی۔گندگی سے نفرت تھی ہم سب کو یہی تلقین تھی کہ سادہ رہولیکن صاف ستھرے رہو اور لباس سے خوش ذوقی کا اظہار ہو۔کھانا سادہ پسند کرتے تھے مگر اچھا پکا ہوا۔کھانا اکیلے بالکل نہیں کھا سکتے تھے کام کی وجہ سے خواہ کتنی بھی دیر ہو جائے جس بیوی کے گھر حضور کی باری ہوتی تھی وہ اور بچے آپ جب تک فارغ ہو کر آ نہ جائیں حضور کا انتظار کرتے رہتے تھے اور ساتھ کھاتے تھے۔تربیت کی غرض سے خود فرمایا کرتے تھے کہ بچوں کو خود ساتھ بٹھایا کرو۔یہی تو وقت ہوتا ہے جس میں بچوں کی عادات اور اخلاق کا میں مطالعہ کرتا ہوں۔میری بچی امتہ المتین چھوٹی سی تھی ہم کھانا کھا رہے تھے آپ نے اُسے مخاطب ہو کر فرمایا متین دیکھو۔تمہاری امی سے مجھے ہر قسم کی بات کرنی پڑتی ہے سلسلہ کے معاملات بھی ہوتے ہیں تم بھی موجود ہوتی ہو۔کبھی ایسانہ کرنا کہ کوئی بات سنو تو آگے کر دو۔اس طرح کھانے