خطابات مریم (جلد دوم) — Page 79
خطابات مریم 79 تحریرات کے موقع پر ہی عموماً بچوں کی تربیت کا موقع ملتا تھا۔اولاد سے باوجود انتہائی محبت کے اگر کوئی ایسی بات ملاحظہ فرماتے جس میں احمدیت کے لئے غیرت کا سوال ہوتا تو بے حد ناراض ہوتے۔ایک بچی کی شادی تھی۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے گھر کے سب بچے بچیوں کی شادیاں بہت ہی سادگی سے ہوئیں کبھی کوئی رسم وغیرہ نہیں ہوئی۔اس نے سہیلیوں سے سنا کہ سہرا بھی کوئی چیز ہوتی ہے جو باندھتے ہیں۔سہرا منگوالیا حضور کو پتہ لگا ناراض ہوئے کہ ہم نے تو دنیا کیلئے نمونہ بننا ہے اور رسوم اور بدعتوں کو مٹانا ہے ابھی سہرا میرے پاس لاؤ۔آپ کے پاس پہنچا دیا گیا کہنے لگے میں ابھی جلا ؤں گا تا ہمارے گھر میں آئندہ سبق حاصل ہو کہ رسم نہیں ہو گی۔آپ سہرا ہاتھ میں پکڑے ہوئے باورچی خانہ کی طرف جارہے تھے کہ چولہے میں ڈال دیں راستہ میں صحن میں حضرت اماں جان بیٹھی تھیں آپ نے دریافت فرمایا کیا معاملہ ہے؟ آپ نے سارا واقعہ بتا دیا۔حضرت اماں جان فرمانے لگیں "میاں شادی کا سامان تو سہاگ کی نشانی ہوتا ہے۔جلاؤ نہ پھینک دو۔آپ نے اس پر جلایا تو نہیں مگر قیچی منگوا کر ذرہ ذرہ کر کے کوڑے کے پیہ میں ڈال دیا۔اس واقعہ میں دو بڑے سبق ہیں ایک تو یہ کہ سہرا صرف گھر میں آیا تھا لگایا نہیں گیا تھا لیکن آپ نے اس غرض سے کہ جماعت اور خاندان کی تربیت ہو وہ رسوم چھوڑیں اس کو جلانے کا ارادہ کر لیا اور دوسری طرف حضرت اماں جان کا کتنا احترام تھا کہ جب آپ نے جلانے سے منع فرمایا تو آپ کے فرمانے کے مطابق عمل کیا لیکن افسوس ہے کہ اب بھی ہماری جماعت میں کثرت سے ایسے خاندان ہیں جن میں شادیوں پر بڑی رسوم ہوتی ہیں۔خاص طور پر سسرال کو جوڑے دینے لڑکی والوں سے ان کی حیثیت سے زیادہ کے مطالبے کرنے جن کے متعلق کئی بار حضرت مصلح موعود نے شوریٰ میں منع فرمایا اور غریب گھرانے نمود و نمائش کی خاطر مالی بحران میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔کاش ہماری جماعت کے لوگ حضرت مصلح موعود کا نمونہ دیکھیں اور آپ کی نصائح اور نمونہ پر عمل کرتے ہوئے رسوم کو چھوڑ دیں جن رسوم کو دور کرنے اور بدعتوں سے پاک کرنے کے لئے حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ تشریف لائے تھے۔اسی طرح ایک دفعہ ایک بچی نے دکان سے ایک بلاؤز خرید لیا یہ خیال نہ کیا کہ نیم آستین۔