خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 77 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 77

خطابات مریم 77 تحریرات پسند تھی۔ناک کی حس اتنی تیز تھی کہ معمولی سی بُو برداشت نہیں کر سکتے تھے اور بہت تیز خوشبو سے نزلہ یا سر درد ہو جاتا تھا۔خوشبو سونگھتے ہی بتا دیتے تھے کہ کسی قسم کی خوشبو ہے۔مجھے یاد ہے قادیان میں ایک انگریز حضور سے ملنے آیا وہ خوشبوؤں اور عطریات کا خاص ماہر تھا اسے اس سلسلہ میں اتنا بڑا دعوی تھا کہ اس نے اپنی ناک کئی ہزار پونڈ میں بیمہ کروائی ہوئی تھی۔اس نے آکر بعض خوشبوئیں حضور کو سنگھا ئیں آپ نے جب ایک ایک کر کے اجزاء بتانے شروع کر دیئے تو اُسے بڑی حیرت ہوئی کہ مذہبی رہنما کو خوشبوؤں کے متعلق اتنا وسیع علم کیسے ہو گیا۔کہنے لگا میں تو اس علم کا ماہر ہوں لیکن آپ کو مجھ سے بھی زیادہ علم ہے۔بعض باتیں آپ نے مجھے ایسی بتائیں ہیں جو مجھے بھی معلوم نہ تھیں۔جمعہ کے دن صرف غسل کرنے یا کپڑے بدلنے کا ہی اہتمام نہ فرماتے بلکہ کھانے وغیرہ کے متعلق بھی فرمایا کرتے تھے مسلمانوں کے لئے یہ عید کا دن ہے۔دوسرے دنوں سے ہمیں اچھا کھانا کھانا چاہئے تا خوشی کا اظہار ہو۔جب تحریک جدید جاری فرمائی تو آپ نے اپنے گھر میں بھی بڑی سختی فرمائی کہ ایک سے زائد کھانا نہ ہوا کرے۔کبھی آپ کے خیال سے ہی ہم نے ایک سے زائد کھانا پکا لینا تو آپ نے ناراض ہونا کہ میں کبھی ایک سے زائد کھانا نہیں کھاؤں گا سوائے دعوت وغیرہ کے۔لیکن جمعہ کا دن ہے آج بے شک ایک آدھ زائد چیز تیار کر لیا کرو۔یوں تو قرآن مجید کی تلاوت جیسا کہ پچھلے مضمون میں میں بیان کر چکی ہوں۔آپ کثرت سے فرماتے تھے اور عموماً زبانی بھی قرآنی دعائیں اور آیات بلند آواز سے پڑھتے رہتے تھے لیکن سب سے زیادہ اور بارہا جو آیات گھر میں ٹہلتے ہوئے سفر میں موٹر میں یاریل میں ہزاروں مرتبہ آپ کو بار بار پڑھتے سنی ہیں وہ سورۃ آل عمران کی آخری آیات ہیں۔سفر کو جاتے ہوئے آپ کا قادیان تک یہ طریق رہا کہ جب کبھی باہر جانا ہوتا تو جانے والے دن بہشتی مقبرہ ضرور تشریف لے جاتے اور جانے سے تھوڑی دیر قبل بیت الدعا میں جا کر دو نفل پڑھ کر سب سے مل کر سب سے آخر میں حضرت اماں جان سے مل کر روانہ ہوتے۔موٹر یا گاڑی میں بیٹھتے ہی دعائیں پڑھنی شروع کر دیتے۔جہاں جانا ہوتا شہر کے نظر آتے ہی آپ ہمیشہ یہ مسنون دعا شروع کر دیتے اور اکثر بلند آواز سے پڑھا کرتے تھے۔اللَّهُم رَبِّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظْلَلُنَ وَ رَبِّ الْأَرْضِينَ السَّبْعِ