خطابات مریم (جلد دوم) — Page 632
خطابات مریم 632 پیغامات لجنہ اماءاللہ۔امریکہ کے اجتماع پر پیغام میری عزیز بہنو! ممبرات لجنہ اماءاللہ امریکہ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُه یہ معلوم ہو کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ آپ کی سالانہ کنوینشن جولائی کے پہلے ہفتہ میں منعقد ہو رہی ہے۔میری دعا ہے کہ اللہ آپ کے اس اجتماع کو بہت بہت مبارک کرے۔آپ کے ذریعہ اسلام کا پیغام امریکہ کے دور دراز کونوں تک پہنچے۔آپ کی زندگیوں میں ایسا انقلاب بر پا ہو۔جس کو دیکھ کر لوگوں کے دل اسلام کی پیاری اور پرکشش تعلیم کی طرف متوجہ ہوں۔گزشتہ سال آپ کے لئے بہت ہی مبارک تھا کہ حضرت مرزا ناصر احمد خلیفۃ المسیح الثالث ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے امریکہ کا دورہ کیا تو آپ نے ان کی زیارت کی ان کے مبارک ارشادات سنے اور فائدہ اُٹھایا۔اس دورہ کے نتیجہ میں یقیناً آپ میں بیداری پیدا ہونی چاہئے تھی اور ہوئی ہوگی اس تبدیلی کو اپنے میں قائم رکھنا آپ کا فرض ہے۔اسلام صرف چند اُصولوں کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو زندگی کے ہر شعبہ کی مکمل راہ نمائی کرتا ہے اگر آپ اصولاً تو اسلام کو مانتی ہیں لیکن عملاً نہیں تو حقیقی مسلمان نہیں کہلا سکتیں اسلام ایک زندہ مذہب ہے ہمیشہ کے لئے ہے اور دین فطرت ہے اس کا کوئی حکم ایسا نہیں جس پر عمل کرنا مشکل ہو۔پس قرآن کے ہر حکم پر عمل کرنے کی کوشش کریں کہ اسی میں حقیقی نجات ہے۔پردہ اسلام کا ایک حکم ہے جس حد تک جہاں تک ممکن ہو ایک احمدی خاتون کو اسلام کے اس حکم پر عمل کرنا چاہئے لیکن بہت ہی بہنیں یہاں پر دو کرتی ہیں اور جب امریکہ جاتی ہیں تو ایسا لباس پہنا شروع کر دیتی ہیں جو سراسر اسلام کی تعلیم کے خلاف ہوتا ہے۔اگر ان کو اپنے مذہب سے گہری محبت ہوتی اور وہ اس یقین پر قائم ہوتیں کہ اسلام کے ہر حکم پر عمل کرنا ضروری ہے تو وہ ایسا نہ کرتیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔