خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 76 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 76

خطابات مریم 76 تحریرات ہیں نمازیں پڑھتے ہیں مگر ہر انسان کا نماز اور عبادت کا رنگ علیحدہ ہوتا ہے۔نماز وہ نہیں کہ دوسروں کے سامنے تو لمبے سجدے کر لیے لیکن علیحدہ جلدی جلدی پڑھ لی۔حضرت امام جماعت احمد یہ الثانی جب نماز باجماعت پڑھاتے تھے تو عموماً جلدی ختم کروا دیتے تھے کہ پیچھے نماز پڑھنے والوں میں بوڑھے اور کمزور بھی شامل ہوتے ہیں۔بیماری کے باعث کبھی خود نما ز کو نہ جا سکتے تو نماز یا خطبہ دینے والے کو بھی حضور کا یہی ارشاد ہوا کرتا تھا کہ چھوٹا خطبہ دیں اور نماز بہت لمبی نہ پڑھائیں لیکن علیحدگی میں جب آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے تو آپ کو عبادت الہی میں اتنا انہاک ہوتا تھا کہ پاس بیٹھنے والا محسوس کرتا تھا کہ یہ شخص اس دنیا میں نہیں ہے۔میں نے آپ کو اس طرح روتے کہ پاس بیٹھنے والا آواز سنے بہت کم دیکھا ہے لیکن آنکھوں سے رواں آنسو ہمیشہ نماز پڑھتے میں دیکھے۔چہرہ کے جذبات سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ گویا اپنی جان اور اپنا دل ہتھیلی پر رکھے اللہ تعالیٰ کی نذر کر رہے ہیں اور اس وقت دنیا کا بڑے سے بڑا حادثہ اور بڑے سے بڑا واقعہ بھی آپ کی توجہ کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف سے ہٹا نہیں سکے گا۔تہجد کی نماز بعض دفعہ اتنی لمبی ہو جاتی کہ مجھے حیرت ہوتی تھی کہ اتنا لمبا وقت آپ کھڑے کس طرح رہتے ہیں۔میں نے سجدہ کی نسبت قیام میں آپ کو زیادہ دعائیں کرتے دیکھا ہے۔بعض دفعہ ایک ایک رکعت میں ڈیڑھ دو گھنٹے کھڑے رہتے ہیں۔تہجد میں آپ کا عموماً یہ طریق تھا کہ ایسے وقت میں تہجد پڑھتے کہ تہجد کی نماز ختم ہونے اور صبح کی نماز میں خاصا وقت ہوتا۔تہجد پڑھ کر لیٹ جاتے اور تھوڑا سا سو بھی لیتے اور پھر اُٹھ کر صبح کی نماز پڑھتے۔نماز با جماعت کا اتنا خیال تھا کہ جب بیمار ہوتے اور بیت نہ جا سکتے تو گھر ہی میں اپنے ساتھ عموماً مجھے کھڑا کر لیا کرتے اور جماعت سے نماز پڑھا دیتے تا کہ نماز با جماعت کی ادائیگی ہو جائے۔سوائے گزشتہ چند سال کی بیماری کے کہ بالکل صاحب فراش ہو گئے تھے اور لیٹے لیٹے یا کرسی پر نماز پڑھتے تھے۔ذکر الہی کرنے کی اتنی عادت تھی کہ رات کو سوتے ہوئے جب کروٹ بدلتے اور ہلکی سی آنکھ کھلتی تو ہمیشہ میں نے سبحان الله و بحمده سبحان اللہ العظیم کہتے ہوئے سنا ہے۔جمعہ کے دن خاص اہتمام فرماتے تھے باقاعدگی سے نہانا، خوشبو لگانا ، اچھی اور نفیس خوشبو بہت