خطابات مریم (جلد دوم) — Page 75
خطابات مریم 75 سیرت حضرت مصلح موعود امام جماعت احمد یہ الثانی احمد یہ کی ایک جھلک تحریرات حضرت امام جماعت احمدیہ الثانی کو ہم سے جدا ہوئے کتنا عرصہ ہو گیا لیکن آج بھی ان کی یا د دل کے تاروں کو ایسا جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے کہ بے اختیار دل چاہتا ہے کاش آپ کچھ عرصہ اور ہم میں رہتے لیکن جب اللہ تعالیٰ کا ارشاد كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَيَبْقَى وَجُهُ رَبِّكَ ذُو الجَلالِ وَالإِكْرَام (الرحمن : 28:27) یاد آ جاتا ہے تو روح آستانہ الہی پر سجدہ ریز ہوتے = ہوئے کہتی ہے۔( یقیناً ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ) ہر بڑے انسان کی سیرت کچھ اعلیٰ اوصاف اور فضائل اپنے اندر رکھتی ہے لیکن دنیا میں بعض انسان ایسے بھی پیدا ہوئے ہیں جو قوموں کی تقدیریں بدلنے کیلئے آتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ دنیا میں نمونہ بنا کر بھجواتا ہے تا اس کی تقلید میں قوم میں بھی وہی اعلیٰ عادات اور فضائل پیدا ہوں۔سید نا حضرت فضل عمر بھی ایسے وجودوں میں سے ایک تھے جن کی زندگی کا ہر ہر لمحہ بے نفسی کے ساتھ یاد خدا تعالیٰ اور خدا تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت میں گزرا۔آپ کی زندگی کا ہر ہر واقعہ ایسا ہے جس پر مضامین لکھے جا سکتے ہیں اور سینکڑوں مضامین اس وقت تک لکھے بھی جاچکے ہیں لیکن 30 سال گزرنے پر بھی اب تک میرا حال یہ ہے کہ جب آپ کی سیرت کے متعلق کچھ لکھنے لگتی ہوں تو آنکھیں دھندلی اور دماغ ماؤف ہونے لگتا ہے قلم لڑکھڑانے لگتا ہے اور ایک حد تک سوچنے کے بعد دل اور دماغ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔بہر حال کوشش کروں گی کہ مدیرہ مصباح کے اصرار پر حضرت فضل عمر کی سیرت کی ایک جھلک قارئین کے سامنے پیش کروں شاید میری یہ مساعی بہنوں کی اصلاح کا موجب ہو۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا ہی اس لئے کیا ہے تا وہ اس کا سچا عبد بنے لوگ عبادت کرتے