صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 549 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 549

۵۴۹ صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۸ - كتاب الأدب اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کہتے ہوئے اپنی منزل مقصود کو قریب تر کرتا جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دین کی اس اصل اور بنیاد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: الدین بیشتر کہ دین نام ہے آسانی کا اور ایسے احکام جن میں بظاہر مشکل دکھائی دیتی ہے مثلاً روزہ رکھنا۔وہاں بھی فرمایا: يُريدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ (البقرة: ۱۸۷) - اسلامی شریعت کی اس روح کو فی زمانہ سمجھنا ضروری ہے۔بد قسمتی سے بگاڑ اور فساد کے اس زمانہ میں دیگر مذاہب کے ماننے والوں نے جہاں انسان کے لئے مذہب کے نام پر رسومات کی زنجیریں اور طوق انسان کے گلے میں ڈال دیتے ہیں مسلمان کہلانے والے بھی ان بدعات کا شکار ہو کر اسلام کو ایک تنگ نظر اور متشد د دین کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو دین اسلام کی اس روح کہ الدین بستر کے سراسر منافی اور متناقض ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ایک روایت میں آتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آسانی پیدا کرو اور تنگی پیدا نہ کرو۔اور اچھی خبر ہی دیا کرو اور لوگوں کو پر کا یا نہ کرو۔تو اصولی قواعد بھی اس لئے ہیں کہ صحیح سمت میں چلتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے حکموں پر چلتے ہوئے لوگوں کے لئے بہتری اور آسانی پیدا کی جائے۔تمہاری ضدیں، تمہاری قسمیں، تمہاری انائیں کبھی بھی کسی بات میں حائل نہ ہوں جس سے لوگ تنگ ہوں۔اگر کوئی قاعدہ بن بھی گیا ہے یا کوئی فیصلہ ہو بھی گیا ہے اگر اس سے لوگ تنگ ہو رہے ہیں تو بدلا جاسکتا ہے۔انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ لوگ ہمیشہ تمہارے پاس خوشی کی خبروں اور محبت اور پیار کے پیغاموں کے لئے اکٹھے ہوا کریں نہ کہ تنگ ہونے کے لئے دور بھاگتے چلے جائیں۔65 (خطبات مسرور، خطبه جمعه فرموده ۳۱، د سمبر ۲۰۰۴ء، جلد ۲ صفحه ۹۵۲) بَاب ۸۱: الِانْبِسَاطُ إِلَى النَّاسِ لوگوں سے کھل کر باتیں کرنا وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ خَالِطِ النَّاسَ وَدِينَكَ اور حضرت ابن مسعودؓ نے کہا: لوگوں سے مل جل لا تَكْلِمَنَّهُ۔وَالدُّعَابَةُ مَعَ الْأَهْلِ۔کر ر ہو اور اپنے دین کا خیال رکھو۔اسے زخمی نہ کرو اور گھر والوں سے دل لگی کرنا۔ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : " اللہ تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا۔“ (صحيح البخاری، کتاب العلم ، باب ما كان النبي يتخولهم بالموعظة والعلم كي لا ينفروا)