صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 548 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 548

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۵۴۸ ۷۸ - كتاب الأدب إِنَّ مَنْزِلِي مُتَرَاحَ فَلَوْ صَلَّيْتُ وَتَرَكْتُهُ اور کہنے لگے : میں جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ لَمْ آتِ أَهْلِي إِلَى اللَّيْلِ وَذَكَرَ أَنَّهُ وسلم سے جدا ہوا ہوں مجھے کسی نے ملامت نہیں کی صَحِبَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور انہوں نے کہا: میرا گھر یہاں سے بہت دور ہے۔ اگر میں نماز پڑھتا اور گھوڑے کو جانے دیتا تو فَرَأَى مِنْ تَيْسِيرِهِ۔ رات تک بھی اپنے گھر والوں کے پاس نہ پہنچتا اور انہوں نے ذکر کیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے مگر آپ نے ان معاملات میں آسانی کو طرفه: ۱۲۱۱ ہی مناسب سمجھا۔ ٦١٢٨ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۶۱۲۸ : ابو الیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ ح۔ وَقَالَ اللَّيْثُ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی۔ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي نیز لیث نے کہا: یونس نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عبید اللہ بن عبد اللہ بن عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ عتبہ نے مجھے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ نے انہیں أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي بتایا کہ ایک گنوار نے مسجد میں پیشاب کر دیا۔ لوگ الْمَسْجِدِ فَقَارَ إِلَيْهِ النَّاسُ لِيَقَعُوا بِهِ اس کی طرف لیکے تا اس کو ماریں مگر رسول اللہ صلی فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ الله علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: اسے جانے دو اور اس وَسَلَّمَ دَعُوهُ وَأَهْرِيقُوا عَلَى بَوْلِهِ ذَنُوبًا کے پیشاب پر پانی کا ڈول انڈیل دو۔ ذُنُوب یا سجل مِنْ مَاءٍ أَوْ سَجْلًا مِّنْ مَّاءٍ فَإِنَّمَا (فرمایا:) تمہیں اس لئے ہیں اسی لئے کھڑا کیا گیا ہے ؟ یا ہے تا کہ آسانی کرنے والے ہو اور تمہیں اس لئے نہیں کھڑا کیا گیا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ۔ کہ تم سختی کرنے والے ہو۔ طرفه: ۲۲۰ - تشريح : يَسِرُ وا وَلَا تُعَسِيرُوا : آسانی کیا کرو اور مشکلات میں نہ ڈ شکلات میں نہ ڈالو۔ دین اس دستورالعمل اور پا دستور العمل اور پلاننگ کا نام ہے جو بندے کو خالق اور مخلوق کے قریب کرنے کے لئے راستے کی مشکلات کو دور کرنے اور نام ہے اس کی منزل کا حصول اس کے لئے آسان بنانے آیا ہے۔ قرآن کریم نے آغاز میں ہی صفات باری تعالیٰ کے بیان اور اقرار بندگی کے بعد بعد سب سے پہلا مژدہ جاں فزا یہ دیا ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے سے صراط مستقیم پر چلنے کی استدعا کرے اور