شمائل النبی ؐ

Page 91 of 224

شمائل النبی ؐ — Page 91

91 شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم ثَلَاثًا سُبْحَانَكَ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي پھر تین دفعہ الحمدللہ اور تین بار اللہ اکبر، اور سُبْحَانَكَ إِنِّي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ ثُمَّ ضَحِكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا فَقُلْتُ لَهُ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا أَمِيرَ اَنت کہا۔تو پاک ہے یقیناً میں نے اپنی جان پر ظلم کیا پس تو الْمُؤْمِنِينَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ مجھے بخش دے کیونکہ بات یہ ہے کہ تیرے سوا اور کوئی گنا ہوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ كَمَا صَنَعْتُ ثُمَّ ضَحِكَ کو بخشنے والا نہیں پھر آپ ہنسنے لگے۔(ابن ربیعہ کہتے ہیں) فَقُلْتُ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ ضَحِكْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ میں نے کہا اے امیر المومنین! آپ کس بات پر ہنس رہے قَالَ إِنَّ رَبَّكَ لَيَعْجَبُ مِنْ عَبْدِهِ إِذَا قَالَ رَبِّ ہیں؟ آپ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ أَحَدٌ کرتے دیکھا تھا جس طرح میں نے کیا پھر آپ ہنسے تھے تو میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا یقینا تیرا رب اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے جب وہ کہتا ہے اے میرے رب ! میرے گناہ بخش دے اور وہ جانتا ہے کہ میرے سوا اور کوئی گناہ نہیں بخشتا۔:226 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ 226: عامر بن سعد کہتے ہیں کہ حضرت سعد نے بیان کیا وہ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ کہتے ہیں کہ میں نے جنگ خندق کے دن نبی کریم ﷺ کو بنتے مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَامِرِ بْنِ ہوئے دیکھا یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں۔سَعْدٍ قَالَ قَالَ سَعْدٌ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عامر کہتے ہیں: میں نے حضرت سعد سے پوچھا ( حضور عالی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى بَدَتْ کا یہ ہنسنا) کیسے ہوا؟ انہوں نے کہا: ایک شخص کے پاس نَوَاجِدهُ قَالَ قُلْتُ كَيْفَ؟ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مَّعَهُ ڈھال تھی اور حضرت سعد اچھے تیر انداز تھے۔وہ شخص تُرُسٌ وَكَانَ سَعْدُ رَامِيًا وَكَانَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا بِالتُّرْسِ يُغَطِيْ جَبْهَتَهُ فَنَزَعَ لَهُ سَعْدٌ بِسَهُم فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ رَمَاهُ فَلَمْ يُخْطِقْ هَذِهِ مِنْهُ يَعْنِي ڈھال کو ادھر ادھر کر لیتا اور اپنی پیشانی کو ڈھانپ لیتا۔پس حضرت سعد نے اُس کے لئے ایک تیر ( کمان میں ڈال جَبْهَتَهُ وَانْقَلَبَ وَشَالَ بِرِجْلِهِ فَضَحِكَ کر کھینچا جو نہی اُس نے اپنا سر اونچا کیا انہوں نے تیر چلا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دیا اور وہ نشانہ پر بیٹھا یعنی اس کی پیشانی پر اور وہ پلٹ کر گر