شمائل النبی ؐ

Page 90 of 224

شمائل النبی ؐ — Page 90

شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم 90 :224 حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِي حَدَّثَنَا :224: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے انہوں نے اَبُوْ مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُبَيْدَةَ کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اُسے خوب جانتا ہوں جو السَّلْمَانِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ سب سے آخر میں دوزخ سے نکلے گا وہ شخص دوزخ سے گھسٹتا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَاعْرِفْ ہوا نکلے گا اُسے کہا جائے گا کہ جا اور جنت میں داخل ہو آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْهَا زَحْفًا جا۔فرمایا وہ جائے گا تا کہ جنت میں داخل ہو تو وہ دیکھے گا کہ لوگوں نے تمام جگہیں لے لی ہوئی ہیں۔تو وہ لوٹ آئے گا فَيُقَالُ لَهُ انْطَلِقُ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ قَالَ فَيَذْهَبُ اور کہے گا اے میرے رب! لوگوں نے تمام جگہیں لے لی لِيَدْخُلَ الْجَنَّةَ فَيَجِدُ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا الْمَنَازِلَ فَيَرْجِعُ فَيَقُوَلُ يَا رِبِّ قَدْ أَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ فَيُقَالُ لَهُ اَتَذْكُرُ الزَّمَانَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ فَيَقُولُ ہیں۔پھر اسے کہا جائے گا کہ تجھے وہ زمانہ یاد ہے جس میں تو تھا ؟ وہ کہے گا ہاں۔پھر اسے کہا جائے گا خواہش کر۔تو وہ خواہش کرے گا پھر اُسے کہا جائے گا جو تو نے خواہش کی وہ نَعَمُ فَيُقَالُ لَهُ تَمَنْ قَالَ فَيَتَمَنَّى فَيُقَالُ لَهُ فَإِنَّ تجھے دی جاتی ہے اور اس کے علاوہ دنیا سے دس گنا دیا جاتا لَكَ الَّذِي تَمَنَّيْتَ وَعَشَرَةَ أَضْعَافِ الدُّنْيَا ہے۔آپ نے فرمایا: اس پر وہ کہے گا کیا تو مجھ سے مذاق کرتا قَالَ فَيَقُولُ أَتَسْخَرُ بِي وَاَنْتَ الْمَلِكُ قَالَ ہے اور تُو تو بادشاہ ہے۔راوی کہتے ہیں میں نے رسول اللہ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ﷺ کو دیکھا۔آپ بننے لگے یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِدُهُ۔نظر آنے لگیں ( مراد یہ ہے کہ خوب کھل کر ہنسے )۔:225 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا 225 علی بن ربیعہ کہتے ہیں میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي إِسْحَق عَنْ عَلِيِّ بنِ کو دیکھا آپ کے پاس ایک جانور لایا گیا تا کہ آپ اُس پر رَبِيعَةَ قَالَ شَهِدْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ سوار ہوں جب آپ نے اپنا پاؤں رکاب میں رکھا تو بسم اللہ بِدَابَّةٍ لِيَرْكَبَهَا فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ پڑھی جب اس کی پشت پر اچھی طرح بیٹھ چکے تو الحمد للہ کہا قَالَ بِسْمِ اللَّهِ فَلَمَّا اسْتَوَى عَلَى ظَهْرِهَا قَالَ پھر کہا : سُبْحَنَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ الْحَمْدُ لِلَّهِ ثُمَّ قَالَ سُبْحَنَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ: پاک ہے وہ جس نے اسے هَدَاوَمَا كُنَّالَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا ہمارے لئے مسخر کیا اور ہم اسے زیر نگیں کرنے کی طاقت لَمُنْقَلِبُونَ ثُمَّ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثًا وَاللهُ أَكْبَرُ نہیں رکھتے تھے اور ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں (الزخرف : 14)