شمائل النبی ؐ

Page 89 of 224

شمائل النبی ؐ — Page 89

89 شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَعْلَمُ أَوَّلَ رَجُلٍ يَدْخُلُ سب سے آخر میں آگ سے باہر آئے گا۔قیامت کے روز الْجَنَّةَ وَآخِرَ رَجُلٍ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ يُؤْتَى اس شخص کو لایا جائے گا کہا جائے گا کہ اُس کے چھوٹے گناہ بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ اَعْرِضُوا عَلَيْهِ صِغَارَ اس کے سامنے پیش کرو اور اس کے بڑے گناہ اس سے مخفی ذُنُوبِهِ وَيُخَبَّأَ عَنْهُ كِبَارُهَا فَيُقَالُ لَهُ عَلِمْتَ يَوْمَ رکھے جائیں۔پھر اس سے کہا جائے گا تمہیں فلاں فلاں اور كَذَا كَذَا وَكَذَا وَهُوَ مُقِرٌّ لَا يُنْكِرُ وَهُوَ مُشْفِق فلاں دن یاد ہے۔وہ اقرار کرے گا اور انکار نہ کرے گا اور وہ مِنْ عِبَارِهَا فَيُقَالُ أَعْطُوهُ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ اپنے بڑے بڑے گناہوں سے ڈر رہا ہو گا پھر کہا جائے گا کہ عَمِلَهَا حَسَنَةً فَيَقُولُ إِنَّ لِي ذُنُوبًا مَا اَرَاهَا هُنَا اُسے ہر گناہ کے بدلے جو اُس نے کیا ایک نیکی اُسے دے دو قَالَ أَبُو ذَرٍ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله تو وہ شخص کہے گا میرے اور بھی گناہ ہیں جو مجھے یہاں نظر نہیں آرہے۔حضرت ابوذر کہتے ہیں کہ پھر میں نے رسول اللہ عل عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاحِدُهُ کو دیکھا آپ ہنسنے لگے یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں 222: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ :222: حضرت جریر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ جب سے میں عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ بَيَانِ عَنْ قَيْسِ بنِ أَبِي اسلام لایا مجھے بھی رسول اللہ اللہ نے ملاقات سے ) نہیں ﷺ ( حَازِمٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَا حَجَبَنِي روکا اور ہمیشہ مجھے دیکھ کر خوشی کا اظہار فرماتے۔رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا ضَحِكَ۔223: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ 223 حضرت جریر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ جب سے میں ابْنُ عَمْرٍو حَدَّلَنَا زَائِدَةً عَنْ إِسْمَاعِيلَ بنِ أَبِي اسلام لایا مجھے کبھی رسول اللہ ﷺ نے ملاقات سے ) نہیں لایا ( خَالِدٍ عَنْ قَيْسٍ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ مَا حَجَبَنِي روکا۔آپ جب بھی مجھے دیکھتے تقسیم فرماتے۔رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ۔فَالْوَجْهُ فِيهِ أَنْ يُرَادَ مُبَالَغَةً مِنْهُ فِي ضِحْكِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُرَادَ ظُهُورُ نَوَاجِذِهِ مِنَ الصّحُكِ (جمع الوسائل في شرح الشمائل جلد 2 صفحہ 21) اور اس بیان کا مقصد آپ کے پہننے میں مبالغہ کا ذکر کرتا ہے نہ کہ ہنے کی وجہ سے داڑھوں کے نظر آنے کا ذکر۔