شمائل النبی ؐ

Page 61 of 224

شمائل النبی ؐ — Page 61

شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم 61 رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ۔:152 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا :152 حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: زیتون کا تیل کھاؤ اور اس کی چکنائی أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهِ عَنْهُ قَالَ استعمال کیا کرو کیونکہ یہ مبارک درخت میں سے ہے۔قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ۔قَالَ أَبُو عِيسَى عَبْدُ الرَّزَّاقِ كَانَ يَضْطَرِبُ فِي هذَا الْحَدِيثِ فَرُبَّمَا أَسْنَدَهُ وَرُبَّمَا اَرْسَلَهُ۔حَدَّثَنَا السِنَحِيُّ وَهُوَابُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدِ المَرْوَزِيُّ السِنْحِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرُ فِيْهِ عَنْ عُمَرَ۔153 : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ :153 حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ ابْنُ جَعْفَرٍ وَّعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِي قَالَا حَدَّثَنَا رسول الله ﷺ کو کدو پسند تھا۔ایک مرتبہ حضور ع کے شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ قَالَ كَانَ پاس کھانا لایا گیا یا آپ کو اس کے لئے مدعو کیا گیا تو میں کدو النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الدُّبَّاءُ فَاتِی چن چن کر حضور اللہ کے سامنے رکھنے لگا کیونکہ میں جانتا تھا بِطَعَامٍ اَوْ دُعِيَ لَهُ فَجَعَلْتُ اتَتَبَّعُهُ فَاضَعُهُ بَيْنَ کہ حضور ﷺ کو یہ پسند ہیں۔يَدَيْهِ لِمَا أَعْلَمُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ۔:154 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بُن :154 حکیم بن جابر اپنے والد (حضرت جابر ) سے روایت غِيَاتٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ حَكِيمٍ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کی خدمت ابْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّی میں حاضر ہوا۔میں نے آپ کے پاس کدو دیکھا جس کے ہوا۔اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَيْتُ عِنْدَهُ دُبَّاءً يُقَطَّعُ فَقُلْتُ ٹکڑے کیے جارہے تھے۔میں نے عرض کی یہ کیا ہے؟ فرمایا: