شمائل النبی ؐ

Page 13 of 224

شمائل النبی ؐ — Page 13

شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم 13 فَنَزَعَهَا رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم نے اسے اکھیڑ کر دوبارہ لگا دیا تو وہ بھی سال میں پھل لے آیا ! فَغَرَسَهَا فَحَمَلَتْ مِنْ عَامِهَا۔:21 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا بِشُرُ بْنُ 21 : ابو نضرہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت ابوسعید الْوَضَّاحِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَقِيلِ الدَّورَقِيُّ عَنْ أَبِي خدری سے رسول اللہ ﷺ کی مہر یعنی مہر نبوت کے بارے نَضْرَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدِ الْخُدْرِي عَنْ خَاتَم میں پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ آپ کی پشت مبارک پر گوشت رَسُول اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي خَاتَم کا ابھرا ہوا ایک حصہ تھا۔النُّبُوَّةِ فَقَالَ كَانَ فِي ظَهْرِهِ بَضْعَةٌ نَاشِرَةٌ۔:22 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ابو الا شُعَثِ :22 حضرت عبد اللہ بن سر جس سے روایت ہے انہوں أَبُو الْعِجْلِيُّ الْبَصْرِيُّ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ عَاصِمِ الْأَحْوَلِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بنِ سَرْجِسَ قَالَ آپ اپنے کچھ صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے۔میں نے آتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آپ کے پیچھے اس طرح چکر لگایا۔حضور نے میری منشا سمجھے فِي نَاسِ مِنْ أَصْحَابِهِ فَدُرْتُ هَكَذَا مِنْ خَلْفِهِ گئے اور اپنی پشت سے چادر ہٹا دی۔میں نے آپ کے فَعَرَفَ الَّذِي أُرِيدُ فَالْقَى الرِّدَاءَ عَنْ ظَهْرِهِ کندھوں کے درمیان بند مٹھی کی طرح مہر کی جگہ دیکھی 2۔فَرَأَيْتُ مَوْضِعَ الْخَاتَمِ عَلَى كَتِفَيْهِ مِثْلَ الْجُمْعِ جس کے ارد گر د تل تھے جو مٹوں جیسے تھے۔پھر میں لوٹا اور حَوْلَهَا خَيْلَانُ كَأَنَّهَا تَالِيْلُ فَرَجَعْتُ حَتَّی حضور کے سامنے آیا اور عرض کی: یا رسول اللہ ! اللہ آپ کی 1۔حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے اہل کتاب سے آنے والے موعود نبی کی تین علامتیں سن رکھی تھیں ( 1 ) وہ صدقہ نہ کھائے گا (2) وہ تحفہ قبول کرے گا (3) اس کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت ہوگی۔جب انہوں نے یہ تینوں علامتیں دیکھ لیں تو بیعت کر لی۔وہ یہود کے غلام تھے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مکاتبت کرنے کا ارشاد فرمایا یعنی اپنے مالکوں سے یہ طے کر لیں کہ اتی رقم ادا کر دیں گے تو وہ آزاد ہو جائیں گے۔یہود نے علاوہ ازیں یہ شرط بھی لگائی کہ وہ ان کے لیے 300 کھجور کے درخت لگا ئیں اور ان کی نگہداشت کریں یہاں تک کہ وہ پھل لانے لگیں۔درخت لگانے میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود جا کر حضرت سلمان کی مدد کی۔حضرت سلمان گڑھے کھودتے جاتے اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے پودے لگاتے جاتے۔آپ کی برکت سے تمام پودے نشو و نما پانے لگے اور اسی سال پھل لے آئے۔2۔اس سے مراد ہاتھ بند کر سکے مٹھی بناتا ہے (جمع الوسائل فی شرح الشمائل جلد 1 صفحہ 88 تالیف علی بن سلطان محمد القاری طبعة الاولى سته 1317ھ)