شمائل النبی ؐ

Page 12 of 224

شمائل النبی ؐ — Page 12

شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم 12 20 حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارِ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثِ 20 حضرت ابو بریدہ روایت کرتے ہیں کہ جب الْخَزَاعِيُّ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ ابْنِ وَاقِدٍ رسول الله ﷺ مدینہ تشریف لائے تو حضرت سلمان فارسی حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ دستر خوان لے کر جس پر تازہ کھجور میں تھیں حضور کے پاس سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ يَقُولُ جَاءَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ حاضر ہوئے اور اسے رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھ دیا۔إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِيْنَ آپ نے فرمایا اے سلمان ! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کی یہ قَدِمَ الْمَدِينَةَ بِمَائِدَةٍ عَلَيْهَا رُطَبٌ فَوَضَعَهَا بَيْنَ آپ اور آپ کے ساتھیوں کے لیے صدقہ ہے۔آپ نے يَدَي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فرمایا اسے اُٹھا لو ہم صدقہ نہیں کھاتے۔راوی کہتے ہیں يَا سَلْمَانُ مَا هَذَا؟ فَقَالَ صَدَقَةٌ عَلَيْكَ وَعَلَى انہوں نے وہ اُٹھا لیا۔اگلے روز ویسی ہی (کھجوریں) لے کر أَصْحَابَكَ فَقَالَ ارْفَعْهَا فَإِنَّا لَا نَاكُلُ الصَّدَقَةَ قَالَ فَرَفَعَهَا فَجَاءَ الْغَدَ بِمِثْلِهِ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا هَذَا يَاسَلْمَانُ؟ فَقَالَ هَدِيَّةٌ لَكَ۔فَقَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا صُحَابِهِ حاضر ہوئے اور اسے رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھا۔آپ نے فرمایا: اے سلمان ! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کی آپ کے لیے ہدیہ ہے۔رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: اپنے ہاتھ بڑھاؤ اور کھاؤ)۔پھر انہوں ( یعنی حضرت سلمان فارسی) نے رسول اللہ ﷺ کی پشت پر مہر دیکھی تو آپ ابْسُطُوا ثُمَّ نَظَرَ إِلَى الْخَاتَمِ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم فَامُنَ بِهِ وَكَانَ لِلْيَهُودِ پر ایمان لے آئے۔وہ یہود کے تھے۔رسول اللہ علہ نے انہیں کچھ درہموں میں خرید لیا ( یہود کی ) اس شرط پر کہ وہ ان کے لیے کھجور کے درخت لگائیں گے اور ان پر پھل آنے تک فَاشْتَرَاهُ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَذَا وَكَذَا دِرْهَمًا عَلَى أَنْ يَغْرِسَ لَهُمْ نَخِيَّلا فَيَعْمَلَ سَلَمَانُ فِيْهِ حَتَّى تُطْعِمَ فَغَرَسَ رَسُولُ کام کریں گے۔پھر رسول اللہ ﷺ نے وہ درخت لگائے الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم النَّخْلَ إِلَّا نَخْلَةٌ سوائے ایک درخت کے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وَاحِدَةً غَرَسَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَحَمَلَتِ لگایا۔تمام کھجور کے درخت اسی سال پھل لائے سوائے ایک النَّخْلُ مِنْ عَامِهَا وَلَمْ تَحْمِلْ نَخْلَةٌ فَقَالَ درخت کے۔رسول اللہ ﷺ نے اس درخت کے بارے رَسُولُ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم مَا شَانُ میں دریافت فرمایا: اس کو کیا ہوا ؟ تو حضرت عمرؓ نے عرض هذِهِ؟ فَقَالَ عُمَرُ يَارَسُوْلَ اللهِ اَنَا غَرَشتُهَا کی یا رسول اللہ ! اسے میں نے لگایا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ