شمائل النبی ؐ — Page 11
11 شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم 17 : حَدَّثَنَا أَبُوْ مُصْعَبِ الْمَدِينِي اَخْبَرَنَا :17: عاصم بن عمر بن قتادہ اپنی دادی حضرت رمیہ سے يُوسُفُ ابْنُ الْمَاجِشُونَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَاصِمٍ بُنِ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا : میں نے عُمَرَ بْن قَتَادَةَ عَنْ جَدَّتِهِ رُمَيْنَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رسول اللہ علیہ کو حضرت سعد بن معاذ کے بارے میں جس رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ أَشَاءُ اَن دن وہ فوت ہوئے یہ کہتے ہوئے سنا کہ ان کے لئے رحمن کا أَقَبلَ الْخَاتَمَ الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْهِ مِنْ قُرُبِهِ لَفَعَلْتُ عرش بھی لرز گیا۔(اس وقت ) اگر میں چاہتی کہ آپ کے يَقُولُ لِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ يَوْمَ مَاتَ اهْتَزَّ لَهُ عَرُشُ قریب ہونے کی وجہ سے مہر کو چوم لوں جو آپ کے الرَّحْمَنِ۔کندھوں کے درمیان تھی تو ایسا کر سکتی تھی۔:18 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الصَّبيُّ وَعَلِيُّ بنُ 18 : ابراہیم بن محمد جو حضرت علی بن ابي طالب كرم الله وجهه : الله حُجْرٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ قَالُوا أَخْبَرَنَا عِیسَی بُنُ کی اولاد میں سے تھے نے کہا کہ حضرت علی رسول اللہ ملے يُونُسَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلى غُفْرَةَ قَالَ کا حلیہ مبارک بیان کرتے تھے۔پھر راوی نے حدیث پوری حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ وَلَدِ عَلِيِّ ابنِ تفصیل کے ساتھ بیان کی اور کہا آپ ﷺ کے دونوں أَبِي طَالِبٍ كَرَّمَ اللهُ وَجْهَهُ قَالَ كَانَ عَلِيٌّ إِذَا کندھوں کے درمیان مہر نبوت تھی اور آپ خاتم النبین ہیں۔وَصَفَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ وَقَالَ كَانَ بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمُ النُّبُوَّةِ وَهُوَخَاتَمُ النَّبِيِّينَ۔19: حَدَّثَنَا مُحَمَدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ :19 علباء بن احمد کہتے ہیں کہ حضرت ابوزید عمر د بن اخطب أَخْبَرَنَا عَزْرَةُ بُنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنِي عِلْبَاءُ ابْنُ اَحْمَرَ انصاری نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو زَيْدٍ عَمْرُو بنُ أَخْطَبَ فرمایا اے ابوزید! میرے قریب آؤ اور میری پشت پر ہاتھ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله پھیرو تو میں نے آپ کی پشت پر ہاتھ پھیرا تو میری انگلیاں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا زَيْدٍ ادْنُ مِنّي فَامُسَحُ ظَهرِ مہر پر جا پڑیں۔میں (علباء بن احمر) نے کہا: وہ مہر کیا تھی ؟ فَمَسَحْتُ ظَهْرَهُ فَوَقَعَتْ اَصَا بِعِيِّ عَلَى الْخَاتَم انہوں نے بتایا: بالوں کا گچھا تھا۔قُلْتُ وَمَا الْخَاتَمُ ؟ قَالَ شَعَرَاتٌ مُجْتَمِعَاتٌ۔