شمائل النبی ؐ

Page 171 of 224

شمائل النبی ؐ — Page 171

شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم 171 بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کے ورثہ کا بیان :382 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ 382: حضرت عمرو بن الحارث جو حضرت جویریہ کے بھائی ابْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ اور صحابی تھے۔بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے عَنْ عَمْرِو بنِ الْحَارِثِ أَخِي جُوَيْرِيَةَ لَهُ پیچھے اپنے ہتھیار اور اپنا خچر اور زمین جس کو صدقہ قرار دے دیا صُحْبَةٌ قَالَ مَاتَرَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ ، رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله تھا کے سوا کچھ نہیں چھوڑا۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا سِلَاحَهُ وَبَغْلَتَهُ وَاَرْضًا جَعَلَهَا صَدَقَةٌ :383 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَنى حَدَّثَنَا 383 حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ أبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ حضرت ابو بکر کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ آپ کا وارث ابْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَتْ فَاطِمَةُ کون ہو گا آپ نے فرمایا: میرے اہل وعیال۔انہوں نے کہا أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَتْ مَنْ پھر میں کیوں اپنے والد کی وارث نہیں بنی۔حضرت ابوبکر نے تَرِئُكَ؟ فَقَالَ أَهْلِي وَوَلَدِي فَقَالَتْ مَا لِي لا فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ہمارا ارِثُ أَبِي؟ فَقَالَ أَبُو بَكْرِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ورثہ نہیں چلے گا لیکن میں اُس کی کفالت کروں گا جس کی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا نُورَتْ وَلَكِني كفالت رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے اور اس پر خرچ أَعْوَلُ عَلَى مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُولُهُ وَانْفِقُ عَلَى مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ۔کروں گا جس پر رسول اللہ یہ خرچ کیا کرتے تھے۔384 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُتَنَى حَدَّثَنَا يَحْيَى 384: ابو البشری سے روایت ہے کہ حضرت عباس اور بنُ كَثِيرِ الْعَنُبَرِيُّ اَبُوْ غَسَّانَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حضرت علی حضرت عمرؓ کے پاس بحث کرتے ہوئے آئے۔عَمُرِو بنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِي أَنَّ الْعَبَّاسَ ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا اور دونوں ایک وَعَلِيًّا جَاءَ إِلَى عُمَرَ يَخْتَصِمَانِ يَقُولُ كُلُّ دوسرے سے اختلاف رائے کر رہے تھے۔اس پر حضرت عمر وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِصَاحِبِهِ اَنْتَ كَذَا أَنتَ كَذَا فَقَالَ نے حضرت طلحہ اور حضرت زبیر اور حضرت عبد الرحمن بن عُمَرُ لِطَلْحَةَ وَالزَّبَيْرِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عوف اور حضرت سعد بن ابی وقاص) سے فرمایا میں تمہیں