شمائل النبی ؐ — Page 170
170 شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم 380: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ 380 حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ جب ابْنُ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا ثَابِتُ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ رسول الله لا مرض الموت کی تکلیف برداشت فرما رہے مَالِك قَالَ لَمَّا وَجَدَ رَسُولُ الله صلی اللہ تھے تو حضرت فاطمہ نے کہا ہائے (ابا کی ) تکلیف ! نبی ﷺ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كُرَبِ الْمَوْتِ مَا وَجَدَ قَالَتْ نے فرمایا آج کے بعد تیرے باپ پر کوئی تکلیف نہیں ہوگی فَاطِمَةُ وَاكْرُبَاهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آج تیرے باپ کو وہ چیز در پیش ہے جس سے کوئی شخص بھی لَا كَرُبَ عَلَى أَبِيكَ بَعْدَ الْيَوْمِ إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ مَا قیامت تک بچنے والا نہیں یعنی وفات۔لَيْسَ بِتَارِي مِنْهُ اَحَدًا الْوَفَاةُ يَوْمَ الْقِيمَةِ۔381 حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى :381 حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے الْبَصْرِيُّ وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بُن رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت میں سے بَارِقِ الْحَنَفِيُّ قَالَ سَمِعْتُ جَدِي أَبَا أُمِّي جس کے دو بچے ( وفات پا کر ) اُس کے لئے پیش خیمہ بن سمَاكَ بُنَ الْوَلِيدِ يُحَدِتُ انَّهُ سَمِعَ ابْنَ جائیں تو اللہ اُن کی وجہ سے اُسے جنت میں داخل فرما دے گا۔عَبَّاسٍ يُحَدِتْ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله اس پر حضرت عائشہ نے عرض کی : امت میں سے جس کا ایک عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَ لَهُ فَرَطَانِ مِنْ أُمَّتِي بچہ پیش رو بنے وہ بھی؟ آپ نے فرمایا ہاں جس کا ایک بچہ بھی أَدْخَلَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِهِمَا الْجَنَّةَ فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ پیش رو ہو وہ بھی۔اے نیکیوں کی توفیق پانے والی۔حضرت فَمَنْ كَانَ لَهُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ وَمَنْ كَانَ عائشہؓ نے عرض کی اور آپ کی امت میں سے جس کا کوئی بچہ بھی لَهُ فَرَطٌ يَا مُوَفَّقَهُ قَالَتْ فَمَنْ لَمْ يَكُن لَّهُ فَرَطٌ پیش رونہ ہے ؟ آپ نے فرمایا تو میں اپنی امت کا پیش رو ہوں مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ فَأَنَا فَرَطٌ لِأُمَّتِي لَنْ يُصَابُوا گا کیونکہ انہیں میری وفات کے غم جیسا اور کوئی غم نہیں پہنچے گا۔کے بِمِثْلِي۔