شمائل النبی ؐ

Page 169 of 224

شمائل النبی ؐ — Page 169

169 شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم الْخَطَّابِ مَنْ لَهُ مِثْلُ هَذِهِ الثَّلَاثِ ثَانِيَ اثْنَيْنِ نے اس جگہ آپ کو وفات دی ہے جو پاکیزہ جگہ ہے۔صحابہ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنُ إِنَّ جان گئے کہ ابو بکر ٹھیک کہہ رہے ہیں۔پھر آپ نے انہیں حکم اللَّهَ مَعَنَا مَنْ هُمَا قَالَ ثُمَّ بَسَطَ يَدَهُ فَبَايَعَهُ دیا کہ وہ آپ کے والد کے بیٹے ( والد کی طرف سے رشتہ دار ) وَبَايَعَهُ النَّاسُ بَيْعَةً حَسَنَةٌ جَمِيْلَةً۔آپ کو غسل دیں ( راوی یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ) مہاجرین جمع ہو کر ( خلافت کے معاملے میں ) باہم مشورہ کرنے لگے اور انہوں نے حضرت ابو بکر سے کہا ہمارے ساتھ اپنے انصار بھائیوں کی طرف چلیں اور ان کو اس معاملہ میں اپنے ساتھ شامل کریں۔انصار نے کہا ہم میں سے ایک امیر ہو اور تم میں سے بھی ایک امیر ہو۔اس پر حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا : کون ہے جسے یہ تین فضیلتیں حاصل ہیں۔پھر یہ آیت پڑھی: ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِاذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنُ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا (ہجرت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یاد کرو) جب وہ دو میں سے ایک تھا۔جب وہ دونوں غار میں تھے اور وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کر یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا وہ دوکون ہیں؟ راوی کہتے ہیں پھر عمر نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور حضرت ابو بکر کی بیعت کی اور تمام لوگوں نے آپ کی بیعت کی اور یہ بیعت ( التوبة : 40) برضا ورغبت اور بہت عمدگی اور خوبصورتی سے ہوئی۔