شمائل النبی ؐ

Page 167 of 224

شمائل النبی ؐ — Page 167

167 شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم بِلَالًا فَلْيُؤَدِّنُ وَمُرُوا اَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ نے عرض کیا میرے والد نرم دل ہیں۔جب وہ آپ کی جگہ فَقَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ أَبِي رَجُلٌ آسِيْفَ إِذَا قَامَ کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے اور وہ نماز نہ پڑھا سکیں ذَلِكَ الْمَقَامَ بَكَى فَلَا يَسْتَطِيعُ فَلَوْ اَمَرْتَ گے۔اس لئے آپ کسی اور کو ارشاد فرما ئیں۔راوی کہتے غَيْرَهُ قَالَ ثُمَّ اغْمِيَ عَلَيْهِ فَافَاقَ فَقَالَ مُرُوا ہیں پھر آپ پر غشی طاری ہو گئی۔پھر افاقہ ہوا تو آپ نے بِلَالًا فَلْيُوذِنَ وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِ بِالنَّاسِ فرمایا : بلال سے کہو کہ وہ اذان دے اور ابو بکر سے کہو کہ وہ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ أَوْصَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ قَالَ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔یقینا تم تو یوسف والی ہو۔راوی کہتے فَأمِرَ بَلَالٌ فَاذَّنَ وَأمِرَ اَبُو بَكْرٍ فَصَلَّی بِالنَّاسِ ہیں کہ پھر بلال سے کہا گیا انہوں نے اذان دی اور ثُمَّ إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ حضرت ابو بکر سے کہا گیا تو انہوں نے نماز پڑھائی۔پھر خِفَّةً فَقَالَ انْظُرُوا مَنْ اَتَّكِيُّ عَلَيْهِ فَجَاءَتْ رسول اللہ ﷺ نے بیماری میں کچھ افاقہ محسوس کیا تو آپ نے بَرِيرَةً وَرَجُلٌ آخَرُ فَاتَّكَا عَلَيْهِمَا فَلَمَّا رَآهُ فرمایا دیکھو کوئی ہے جس کا میں سہارا لوں ( اور مسجد میں جاؤں) أَبُو بَكْرٍ ذَهَبَ لِيَنكُصَ فَاوْمَا إِلَيْهِ أَنْ يَثْبُتَ اس پر حضرت بریرہ اور ایک اور شخص آیا تو حضور ﷺ نے ان مَكَانَهُ حَتَّى قَضَى أَبُو بَكْرٍ صَلَاتَهُ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ پر سہارا لیا اور مسجد میں تشریف لائے ) جب حضرت ابوبکر اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ فَقَالَ عُمَرُ نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹنے لگے آپ نے اشارہ سے فرمایا وَاللَّهِ لَا اَسْمَعُ أَحَدًا يَذْكُرُاَنَّ رَسُولَ اللهِ قُبِضَ کہ اپنی جگہ ٹھہریں یہاں تک کہ حضرت ابو بکر نے نماز مکمل إِلَّا ضَرَبْتُهُ بِسَيْفِي هَذَا قَالَ وَكَانَ النَّاسُ أُمَيِّينَ کی۔پھر رسول اللہ ﷺ کا اسی مرض الموت میں ) وصال لَمْ يَكُنْ فِيْهِمْ نَبِي قَبْلَهُ فَأَمْسَكَ النَّاسُ قَالُوا ہو گیا تو حضرت عمر کہنے لگے اللہ کی قسم جس کو میں نے یہ کہتے سنا يَا سَالِمُ الْطَلِقُ إِلَى صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى که رسول اللہ اللہ فوت ہو گئے ہیں تو میں اُسے اپنی اس تلوار اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَادْعُهُ فَأَتَيْتُ اَبَا بَكْرٍ وَهُوَ فِی سے قتل کر دوں گا۔راوی کہتے ہیں لوگ تو ان پڑھ تھے ان میں الْمَسْجِدِ فَأَتَيْتُهُ أَبْكِي دَهِشَا فَلَمَّا رَآنِي قَالَ حضور ﷺ سے پہلے کوئی نبی نہ آیا تھا اس لئے وہ رک گئے اَقْبِضُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ بعض صحابہ نے کہا اے سالم ! رسول اللہ ﷺ کے ساتھی کی إِنَّ عُمَرَ يَقُولُ لَا أَسْمَعُ أَحَدًا يَذْكُرُ اَنَّ طرف جاؤ اور انہیں بلا لاؤ۔چنانچہ میں حضرت ابو بکڑ کے پاس رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُبِضَ إِلَّا آیا وہ مسجد میں تھے۔میں روتا ہوا اور گھبرایا ہوا ان کے پاس ضَرَبْتُهُ بِسَيْفِي هَذَا فَقَالَ لِی انْطَلِقُ فَانُطَلَقْتُ پہنچا۔جب انہوں نے مجھے دیکھا تو کہا کیا رسول اللہ ﷺ کا