شمائل النبی ؐ

Page 166 of 224

شمائل النبی ؐ — Page 166

شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم 166 قَالَتْ تُوُقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ :377 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا 377 جعفر بن محمد اپنے والد ( امام باقر) سے روایت سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيْهِ کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا وصال پیر کے دن ہوا۔آپ قَالَ قُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وہ دن اور منگل کی رات ( اور دن ) رہے اور آپ کی تدفین يَوْمَ الإِثْنَيْنِ فَمَكَتَ ذَلِكَ الْيَوْمَ وَلَيْلَةَ الثَّلَاثَاءِ (بدھ کی ) رات کو ہوئی۔سفیان کہتے ہیں کہ امام باقر کے وَدُفِنَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ سُفْيَانُ وَقَالَ غَيْرُهُ يُسْمَعُ علاوہ کسی اور نے روایت کی ہے کہ بیلچوں کی آواز رات کے صَوْتُ الْمَسَاحِي مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ۔آخری حصے میں سنائی دیتی تھی۔378 : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ :378 ابو سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت ہے ابْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ شَرِيْكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِی انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے پیر کے روز وفات پائی نَمْرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ اور آپ کی تدفین منگل کے دن ہوئی۔قَالَ تُوُقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ وَدُفِنَ يَوْمَ الثَّلَاثَاءِ قَالَ أَبُو عِيسَى هذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ۔379 : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِي الْجَهْضَمِيُّ الْبَأْنَا :379 حضرت سالم بن عبید بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ علی عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بنُ نُبَيْطِ کو مرض الموت میں غشی طاری ہوئی۔پھر افاقہ ہوا تو آپ أَخْبَرَنَا عَنْ نُعَيْمِ بْنِ أَبِي هِنْدِ عَنْ نُبَيْطِ بُنِ نے پوچھا کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے؟ صحابہ نے عرض کی جی شَرِيطٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ أَعمِيَ عَلى حضور ! آپ نے فرمایا: بلال سے کہو کہ وہ اذان دے اور ! رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِی مَرَضِهِ ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔پھر آپ پرغشی طاری فَأَفَاقَ فَقَالَ حَضَرَتِ الصَّلَوةُ؟ فَقَالُوا نَعَمُ فَقَالَ ہوگئی۔پھر افاقہ ہوا تو آپ نے فرمایا کیا نماز کا وقت ہو گیا مُرُوا بِلَالًا فَلْيُؤذِّنُ وَمُرُوا أَبَا بَكْرِ فَلْيُصَل ہے؟ صحابہ نے عرض کی جی ہاں ! آپ نے فرمایا بلال سے کہو لِلنَّاسِ أَوْ قَالَ بِالنَّاسِ ثُمَّ اغْمِيَ عَلَيْهِ فَافَاق کہ وہ اذان دے اور ابو بکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز فَقَالَ حَضَرَتِ الصَّلَوةُ؟ فَقَالُوا نَعَمْ فَقَالَ مُرُوا پڑھا ئیں۔آپ نے لِلنَّاس فرمایا یا بالناس - حضرت عائشہ