شمائل النبی ؐ — Page 159
159 میں چھپارکھی ہوتی تھی۔شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ أخِفْتُ میں مجھے اس قدر ایذاء دی گئی جو کسی اور کو نہیں دی گئی۔مجھ فِي اللَّهِ وَمَا يُخَافُ أَحَدٌ غَيْرِي وَلَقَدْ أَو ذِيتُ پرتیں شب و روز ایسے بھی آئے کہ میرے اور بلال کے فِي اللَّهِ وَمَا يُؤْذَى اَحَدٌ وَلَقَدْ اَتَتْ عَلَيَّ ثَلَاثُونَ کھانے کے لئے کوئی ایسا کھانا بھی نہ ہوتا تھا جسے کوئی جاندار مِنْ بَيْنِ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ وَمَا لِي وَلِبَلَالٍ طَعَامٌ يَأكُلُه کھا سکے بج، اس تھوڑی سی مقدار کے جو بلال نے اپنے پہلو ذُو كَبِدٍ إِلَّا شَيْءٌ يُوَارِيهِ إِبْطُ بِلَالٍ 360: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنْبَأَنَا 360 حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ عُثمَانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا آبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَارُ نبی کریم ﷺ کے پاس صبح کے کھانے میں یا شام کے کھانے حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ أَنَّ النَّبِی میں روٹی اور گوشت (دونوں) اکٹھے نہیں ہوئے۔مگر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَجْتَمِعُ عِنْدَهُ غَدَاء ضفف کی حالت میں بعض لوگوں کے مطابق ضفف کے وَلَا عَشَاءٌ مِنْ حُبُرٍ وَلَحْمٍ إِلَّا عَلَى ضَفَفِ قَالَ معنی زیادہ ہاتھوں کے ہیں ( یعنی جب زیادہ لوگ کھانے پر بَعْضُهُمْ هُوَ كَثْرَةُ الْأَيْدِي۔361 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ 361 نوفل بن ایاس الهُذَلِی کہتے ہیں کہ حضرت بنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْك حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عبد الرحمن بن عوف ہمارے ہم نشین تھے اور وہ کیا ہی اچھے ہم ذِلْبٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنُدْبِ عَنْ نَوْفَلَ بُنِ إِيَاسٍ نشین تھے۔ایک دن وہ ہمارے ساتھ کسی جگہ سے لوٹے اور الْهُذَلِيَ قَالَ كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ لَنَا جب ہم ان کے گھر میں داخل ہوئے اور وہ بھی اندر آئے اور جَلِيْسًا وَكَانَ نِعْمَ الْجَلِيْسُ وَإِنَّهُ انْقَلَبَ بِنَا انہوں نے غسل کیا پھر باہر تشریف لائے اور ہمارے پاس ذَاتَ يَوْمٍ حَتَّى إِذَا دَخَلْنَا بَيْنَهُ وَدَخَلَ فَاغْتَسَلَ کھانے کی بڑی طشتری لائی گئی جس میں گوشت اور روٹی ثُمَّ خَرَجَ وَاتِيْنَا بِصَحْفَةٍ فِيهَا حُبُرٌ وَلَحْمٌ فَلَمَّا تھی۔جب وہ طشتری رکھی گئی تو حضرت عبد الرحمن رونے وُضِعَتْ بَكَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقُلْتُ لَهُ يَا آبَا لگے۔میں نے ان سے کہا اے ابو محمد ! آپ کیوں روتے مُحَمَّدٍ مَا يُبْكِيْكَ؟ قَالَ هَلَكَ رَسُولُ اللهِ ہیں؟ انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی مگر آپ بیٹھے ہوں )۔- صفف خلف کے معنے لوگوں کا اکٹھے ہونا ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ چشمے پر لوگ اکٹھے ہوئے۔(نہایہ)