شمائل النبی ؐ

Page 157 of 224

شمائل النبی ؐ — Page 157

شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم 157 الْمُنْكَرِ وَبِطَانَةٌ لَا تَأْلُوهُ خَبَالًا وَمَنْ يُوقَ بِطَانَةَ پوری طرح اس کا حق ادا نہیں کرسکو گے سوائے اس کے السُّوءِ فَقَدْ وُقِى۔کہ تم اُسے آزاد کر دو۔انہوں نے کہا پس وہ آزاد ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی یا خلیفہ نہیں بھیجا مگر اس کے دور از دان ہوتے ہیں ایک راز دان اُسے نیکی کا مشورہ دیتا ہے اور اسے برائی سے روکتا ہے اور دوسرا راز دان اسے ناکام کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا اور جو بُرے راز دان سے بچایا گیا وہی محفوظ رہا۔357 حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بن مُجَالِهِ 357 حضرت سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں میں وہ پہلا ابْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ بَيَانِ حَدَّثَنِي قَيْسُ شخص ہوں جس نے اللہ کے رستہ میں خون بہایا۔اور میں وہ ابْنُ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بنِ أَبِي وَقَّاصٍ پہلا شخص ہوں جس نے اللہ کے رستہ میں تیر چلایا۔میں نے يَقُولُ إِنِّي لَأَوَّلُ رَجُلٍ اِهْرَاقُ دَمًا فِي سَبِيلِ اپنے آپ کو اس حالت میں بھی دیکھا ہے جب محمد نے کے اللهِ وَإِنِّي لَأَوَّلُ رَجُلٍ رَمَى بِسَهُم فِي سَبِيْلِ صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ غزوہ میں شامل تھا۔اللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَغْرُرُ فِي الْعِصَابَةِ مِنْ أَصْحَابِ (ہمارے پاس کچھ نہ تھا) ہم صرف درختوں کے پتے اور کیکر مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَأْكُلُ إِلَّا وَرَقَ کی پھلیاں کھاتے تھے یہاں تک حالت پہنچی کہ ہم بکری اور الشَّجَرِ وَالْحُبْلَةَ حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ كَمَا اونٹ کی طرح مینگنیاں کرنے لگے۔(اور آج) بنو اسد مجھ پر تَضَعُ الشَّاةُ وَالبَعِيرُ وَأَصْبَحَتْ بَنُو اسد دین کے معاملے میں ملامت کرتے ہیں اگر یہ بیچ ہے تب تو يُعَزِّرُ ونَنِي فِي الدِّينِ لَقَدْ خِبْتُ إِذَا وَضَلَّ عَمَلِي۔میں ناکام رہا اور میرے عمل ضائع ہو گئے ہیں۔حضرت سعد بن ابی وقاص حضرت عمر کے دور میں کوفہ کے امیر تھے۔وہاں کے بعض شر پسندوں نے ان کی شکایات کیں۔یہ کہ یہ نماز بھی اچھی طرح نہیں پڑھاتے۔حضرت عمر نے جب انہیں بلا کر پوچھا تو انہوں نے اپنی بے گناہی ثابت کرتے ہوئے یہ باتیں بتائیں۔