شمائل النبی ؐ — Page 156
156 شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم مِنْ رُطَبِهِ؟ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ! إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم چن کر صرف پکی ہوئی تازہ تَخْتَارُوا أَوْ تَخَيَّرُوا مِنْ رُطَبِهِ وَبُسْرِهِ فَا كَلُوا کھجوریں کیوں نہیں لائے؟ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ! وَشَرِبُوا مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ میں نے چاہا کہ آپ پکی ہوئی اور گدری کھجوروں میں سے جو اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مِنَ النَّعِيمِ چاہیں لے لیں۔پس آپ نے کھجور میں تناول فرما ئیں اور الَّذِى تُسْأَلُونَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ظِلُّ بَارِدٌ اُس پانی میں سے کچھ نوش فرمایا۔پھر نبی ﷺ نے فرمایا اس وَرُطَبٌ طَيِّبٌ وَمَاء بَارِدٌ فَانْطَلَقَ ابُو الْهَيْثَمِ ذات کی قسم جس کے ہاتھوں میں میری جان ہے یہ ان نعمتوں لِيَصْنَعَ لَهُمْ طَعَامًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ میں سے ہے جن کے بارے میں قیامت کے دن تم سے وَسَلَّمَ لَا تَذْبَحَنَّ لَنَا ذَاتَ دَر فَذَبَحَ لَهُمْ عَنَاقًا پوچھا جائے گا۔ٹھنڈا سایہ، تازہ پکی ہوئی عمدہ کھجور اور ٹھنڈا اَوْجَدْيًا فَأَتَاهُمُ بِهَا فَاكَلُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی پانی۔پھر ابویم ان کے لئے کھانا تیار کرنے کے لئے جانے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ لَكَ حَادِمٌ قَالَ لَا قَالَ لگے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہمارے لئے دودھ دینے والا فَإِذَا آتَانَا سَبْيٌّ فَأْتِنَا فَاتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جانور ذبح نہ کرنا تو انہوں نے بکری کا بچہ ذبح کیا اور پھر وہ (پکا وَسَلَّمَ بِرَأْسَيْنِ لَيْسَ مَعَهُمَا ثَالِكُ فَأَتَاهُ کر انہیں پیش کیا۔انہوں نے کھانا تناول فرمایا۔پھر أبُو الْهَيْتَم فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تمہارے پاس کوئی خادم ہے؟ اِخْتَـرُ مِنْهُمَا فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ اِخْتَر لِی فَقَالَ انہوں نے عرض کیا: نہیں۔فرمایا جب ہمارے پاس قیدی النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنْ آئیں تو ہمارے پاس آنا۔جب نبی ﷺ کے پاس دو غلام خُذْ هَذَا فَإِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلَّى وَاسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا لائے گئے۔ان کے ساتھ تیسرا نہ تھا۔ابو یتیم حاضر ہوئے۔فَانْطَلَقَ اَبُو الْهَيْثَمِ إِلَى امْرَأَتِهِ فَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان دونوں میں سے ایک چن لو۔انہوں رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتِ نے عرض کی اے اللہ کے نبی! آپ میرے لئے پسند فرمائیں۔امْوَاتُهُ مَا اَنْتَ بِبَالِغ مَا قَالَ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّى الله رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنْ تُعْتِقَهُ قَالَ فَهُوَ عَتِيقٌ فَقَالَ ہوتا ہے، یہ لے لو کیونکہ اسے میں نے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللهَ تَعَالَى لَم ہے۔اس کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔ابو ہیم اپنی بیوی کے يَبْعَثُ نَبِيًّا وَلَا خَلِيفَةً إِلَّا وَلَهُ بِطَانَتان بطالة پاس گئے اور رسول اللہ ﷺ کی ساری بات بیان کی۔ان کی بِطَانَةٌ۔تَأمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهاهُ عَنِ بیوی نے کہا جو نبی کریم علیہ نے اس کے متعلق فرمایا ہے تم