شمائل النبی ؐ — Page 155
155 شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم 356: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا آدَمُ :356 حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ہی ہے ابْنُ أَبِي إِيَاسٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا ایک ایسی گھڑی میں باہر نکلے جس میں آپ (عموما ) نہیں نکلا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ کرتے تھے اور نہ ہی اس میں کوئی آپ سے ملنے آتا، پھر الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى حضرت ابوبکر آپ کے پاس آن پہنچے۔آپ نے فرمایا اے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَاعَةٍ لَا يَخْرُجُ فِيهَا ابوبکر ! کیسے آنا ہوا؟ انہوں نے عرض کی میں نکلا ہوں تاکہ وَلَا يَلْقَاهُ فِيْهَا أَحَدٌ فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ مَا جَاءَ رسول اللہ ﷺ سے ملوں، آپ کے چہرے کا دیدار کروں اور بِكَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَقَالَ خَرَجْتُ الْقَى رَسُولَ آپ کو سلام کروں۔کچھ دیر بعد حضرت عمر آگئے۔آپ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْظُرُ فِي وَجْهِهِ نے فرمایا اے عمر! کیسے آنا ہوا ؟ انہوں نے عرض کی وَالتَّسْلِيمُ عَلَيْهِ فَلَمُ يَلْبَتْ أَنْ جَاءَ عُمَرُ فَقَالَ مَا یا رسول الله ! بھوک لے آئی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے جَاءَ بِكَ يَا عُمَرُ؟ قَالَ الْجُوعُ يَا رَسُولَ اللهِ! فرمایا: میں بھی کچھ ایسا ہی پا رہا ہوں۔پھر وہ (متینوں) فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاَنَا قَدْ حضرت ابوہیم بن تیہان انصاری کے گھر گئے۔جن کے وَجَدْتُ بَعْضَ ذَلِكَ فَانْطَلَقُوا إِلَى مَنْزِلِ أَبِي بکثرت کھجور کے درخت اور بکریاں تھیں ان کے پاس کوئی الْهَيْثَمِ بنِ التَّيْهَانِ الأَنْصَارِي وَكَانَ رَجُلًا خادم نہ تھا مگر ان کو ( گھر میں ) نہ پایا۔اس پر انہوں نے ان كَثِيرَ النَّخْلِ وَالشَّاءِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ خَدَمٌ فَلَمْ کی بیوی سے پوچھا کہ تمہارا خاوند کہاں ہے؟ اس نے عرض يَجِدُوهُ فَقَالُوا لِامْرَأَتِهِ أَيْنَ صَاحِبُكَ؟ فَقَالَتِ کی وہ میٹھا پانی لینے کے لئے گئے ہیں۔ابھی تھوڑی دیر ہی انْطَلَقَ يَسْتَعْذِبُ الْمَاءَ فَلَمْ يَلْبَثُوا أَنْ جَاءَ گزری تھی کہ ابو یشم ایک بھرا ہوا مشکیزہ بمشکل اٹھائے ہوئے أَبُو الْهَيْثَمِ بِقِرْبَةٍ يَرْعَبْهَا فَوَضَعَهَا ثُمَّ جَاءَ يَلْتَزِمُ آئے۔انہوں نے اسے نیچے رکھا اور نبی کریم ے سے ہی ہے النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُفَدِّيْهِ بِاَبِيْهِ وَاُمَه چمٹ گئے اور عرض کرنے لگے کہ میرے ماں باپ آپ پر ثُمَّ انْطَلَقَ بِهِمُ إِلَى حَدِيقَتِهِ فَبَسَطَ لَهُمْ بِسَاطًا قربان ہوں۔پھر وہ انہیں ساتھ لے کر اپنے باغ کی طرف ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى نَخْلَةٍ فَجَاءَ بِقِنُوِ فَوَضَعَهُ فَقَالَ چل پڑے۔(وہاں) ان کے لئے فرش بچھایا اور کھجور کے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَلَا تَنفَّيْتَ ایک درخت کی طرف گئے اور کھجور کا خوشہ لائے اور پیش کیا۔ا يَزْعَبُ: بھرا ہوا مشکیزہ اٹھانا، ایسا بوجھ اٹھانا جو ادھر ادھر ہورہا ہو۔( منجد)