شمائل النبی ؐ

Page 148 of 224

شمائل النبی ؐ — Page 148

148 شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم 338 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عِمْرَانَ أَبُو الْقَاسِمِ 338 حضرت ابن عباس سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ الْقُرَشِيُّ الْمَكِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ رسول اللہ حل خیر اور بھلائی میں سب لوگوں سے زیادہ سخی ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تھے اور آپ ماہ رمضان میں پہلے سے بھی زیادہ سخاوت كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ فرماتے یہاں تک کہ وہ گزر جاتا۔اس میں جبرائیل آپ النَّاسِ بِالْخَيْرِ وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي شَهْرِ کے پاس آتے اور آپ کو قرآن کا دور کرتے ہیں جب رَمَضَانَ حَتَّى يَنْسَلِخَ فَيَأْتِيهِ جِبْرِيلُ فَيَعْرِضُ جبرائیل آپ سے ملاقات کرتے رسول اللہ ﷺ خیر خواہی عَلَيْهِ الْقُرْآنَ فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ كَانَ رَسُولُ اللهِ میں تیز آندھی سے بھی زیادہ بنی ہوتے۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ 339 : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ 339: حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ نبی کر یم ﷺ کل سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ قَالَ کے لئے کوئی چیز بچانہ رکھتے تھے۔كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخِرُ شَيْئًا لِغَدٍ شخص 340: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ 340 حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ ایک الْمَدِينِي حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدِ عَنْ رسول الله ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے کچھ مانگا۔زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ اَنَّ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے پاس (اس وقت) تو کچھ نہیں رَجُلا جَاءَ إِلى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہے تم میرے نام سے (ضرورت کی چیز ) خرید لو، جب وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ أَنْ يُعْطِيَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله میرے پاس کچھ آئے گا تو میں ادا کر دوں گا۔اس پر حضرت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِنْدِي شَيْءٌ وَلَكِنِ ابْتَعُ عَلَيَّ عمر نے عرض کی۔یا رسول اللہ ! آپ اُسے (پہلے) دے چکے فَإِذَا جَاءَ نِي شَيْءٌ قَضَيْتُهُ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ الله ہیں اور جو آپ کی استطاعت میں نہیں اس کا اللہ تعالیٰ نے قَدْ أَعْطَيْتَهُ فَمَا كَلْفَكَ اللهُ مَا لَا تَقْدِرُ عَلَيْهِ آپ کو مکلف نہیں ٹھہرایا۔نبی ﷺ نے حضرت عمرؓ کی بات فَكَرِهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلَ عُمَرَ نا پسند فرمائی تو انصار میں سے ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! فَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللهِ انْفِقُ وَ آپ خرچ کریں اور خدائے ذوالعرش کی طرف سے فقر سے