شمائل النبی ؐ

Page 147 of 224

شمائل النبی ؐ — Page 147

147 شمائل النبی صلی اللہ علیہ وسلم ثَوَابَهُ وَإِذَا تَكَلَّمَ أَطْرَقَ جُلَسَاؤُهُ كَأَنَّمَا عَلى مجلس یوں خاموش ہو کر نگاہیں جھکا لیتے کہ ان کے سروں پر رُوسِهِمُ الطَّيْرُ فَإِذَا سَكَتَ تَكَلَّمُوا لَا پرندے بیٹھے ہوں۔جب آپ خاموش ہوتے تو وہ گفتگو يَتَنَازَعُونَ عِنْدَهُ الْحَدِيث وَمَنْ تَكَلَّمَ عِندَهُ کرتے۔آپ کے پاس وہ کسی بات پر آپس میں تکرار نہ انْصَتُوا لَهُ حَتَّى يَفْرُغَ حَدِيْتُهُمْ عِنْدَهُ حَدِیث کرتے اور جو کوئی بھی آپ کے سامنے بات کرتا تو باقی سب أَوَّلِهِمْ يَضْحَكُ مِمَّايَضْحَكُونَ مِنْهُ وَيَتَعَجَّبُ خاموش ہو جاتے یہاں تک کہ وہ اپنی بات مکمل کر لیتا۔آپ مِمَّا يَتَعَجَّبُونَ وَيَصْبِرُ لِلْغَرِیبِ عَلَى الْجَفْوَةِ فِی کی مجلس میں ہر ایک کی گفتگو اس طرح ہوتی جیسے پہلے شخص کی مَنطِقِهِ وَمَسْأَلَتِهِ حَتَّى إِنْ كَانَ أَصْحَابُهُ گفتگو ہو۔( یعنی ہر شخص کو بات کرنے کا پورا موقعہ ملتا ) آپ لَيَسْتَجْلِبُونَهُمْ وَيَقُولُ إِذَا رَأَيْتُمُ طَالِب حَاجَةٍ ان باتوں پر خوشی کا اظہار فرماتے جن پر صحابہ خوش ہوتے اور يَطْلُبُهَا فَارْفِدُوهُ وَلَا يَقْبَلُ السَّنَاءَ إِلَّا مِنْ مُكَافِی آپ پسند فرماتے جن کو وہ پسند فرماتے۔آپ اجنبی شخص کے وَلَا يَقْطَعُ عَلَى أَحَدٍ حَدِيثَهُ حَتَّى يَجُوزَ فَيَقْطَعُهُ گفتگو اور سوال میں تلخی پر صبر فرماتے یہانتک کہ آپ کے صحابہ ایسے لوگوں کے آنے کی تمنا کرتے تھے۔آپ فرمایا بِنَهْي أَوْ قِيَامٍ کرتے کہ جب تم کسی حاجت مند کو دیکھو کہ وہ سوال کر رہا ہے تو اس کی مدد کرو۔آپ تعریف قبول نہ فرماتے سوائے اس کے جو ( تعریف میں ) مبالغہ آرائی نہ کرنے والا ہو اور آپ کسی کی بات نہ کاٹتے جب تک کہ وہ حد سے تجاوز نہ کرے تب منع کر کے اس بات سے روک دیتے یا اُٹھ کھڑے ہوتے۔337: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا :337 حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سے کبھی کچھ طلب نہیں کیا گیا جس کے جواب میں آپ نے مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ نہ فرمایا ہو۔عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَط فَقَالَ لَا